آئی پی پیز کی اکثریت کے مالکان حکومت میں بیٹھے ہیں

حکمران اشرافیہ غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی لوٹ کر دولت باہر بھیجتی ہے، گزشتہ تین ماہ میں آئی پی پیز کو 450ارب دیئے گئے، امیر جماعت اسلامی کا انکشاف

muhammad ali محمد علی ہفتہ 20 جولائی 2024 21:10

آئی پی پیز کی اکثریت کے مالکان حکومت میں بیٹھے ہیں
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جولائی 2024ء) امیر جماعت اسلامی نے انکشاف کیا ہے کہ آئی پی پیز کی اکثریت کے مالکان حکومت میں بیٹھے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئی پی پیز کی اکثریت کے مالکان حکومت میں اور عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں۔ حکمرانوں نے آئی پی پیز کے ساتھ ظالمانہ معاہدے کئے، حکمران اشرافیہ غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی لوٹ کر دولت باہر بھیجتی ہے، گزشتہ تین ماہ میں آئی پی پیز کو 450ارب دیئے گئے، متعدد آئی پی پیز کو بجلی نہ بنانے پر 10 ارب ماہانہ ادا کئے جاتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آئی پی پیز کے فرانزک آڈٹ اورمعاہدوں کی تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں، آئی پی پیز سے اندھے معاہدوں کی قیمت عوام چکا رہے ہیں، ہر یونٹ پر 18 روپے کیپسٹی چارجز کی مد میں شامل کئے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 26جولائی کا اسلام آباد میں دھرنا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف ہے، عوام اپنے حقوق کے حصول کے لئے اسلام آباد دھرنا میں شرکت یقینی بنائیں۔

جبکہ سابق نگران وزیر گوہر اعجاز کی جانب سے بھی پاور پلانٹس کو کی جانے والی ادائیگیوں کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے۔ گوہر اعجاز کے مطابق آئی آئی پیز میں آدھے 10 فیصد سے کم کپیسٹی پر چل رہی ہے، 4 پاور پلانٹس بجلی پیدا کیے بغیر 1 ہزار کروڑ روپے ماہانہ لے رہے ہیں۔ ہماری حلال کی کمائی 40 خاندانوں میں کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کی جاتی، ان پاور پلانٹس کو پیسے تب ہی دیے جائیں جب بجلی پیدا کریں۔

سابق نگران وزیر نے مزید انکشاف کیا ہے کہ مختلف آئی پی پیز کو جنوری 2024 سے مارچ تک 150 ارب ادا کیے گئے۔ آئی پی پیز کو ماہانہ 150 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔ دوسری جانب دنیا اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس وقت گھریلو صارفین کو بجلی 60 روپے سے زائد فی یونٹ پڑرہی ہے، کمرشل صارفین کو 80 روپے اور انڈسٹریل صارف کو بجلی کا ایک یونٹ 40 روپے میں مل رہا ہے، پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2 ہزار 300 ارب روپے تک پہنچ گیا جس میں سے 2 ہزار ارب روپے سے زائد کپیسٹی پے منٹس کی مد میں ادا کیے جانے ہیں اور آج ملک میں مہنگی ترین بجلی کی بڑی وجہ یہی آئی پی پیز ہیں، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ملک میں معاشی بحران کی بڑی وجہ ہیں، معاہدوں پر نظر ثانی نہ ہونے کی صورت میں کاروبار ٹھپ اور صنعتیں بند ہونے کا خطرہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 1994ء، 2002ء اور 2015ء کے دوران پاور پلانٹس سے کیے جانے والے معاہدے پورے نظام کیلئے درد سر بن چکے ہیں، ان معاہدوں کے تحت بجلی خریدی جائے یا نہ خریدی جائے اس کی قیمت ہر صورت ادا کرنا پڑتی ہے اور وہ بھی ڈالر میں دینی ہوتی ہے، نیپرا رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ آئی پی پیز کی اوسطاً 47 اعشاریہ 9 فیصد بجلی استعمال کی جا رہی ہے لیکن ان آئی پی پیز کو ادائیگیاں 100 فیصد کی جارہی ہیں۔

ادھر روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث کپیسٹی پے منٹس کا حجم مزید خوفناک شکل اختیار کرنے لگا ہے، 2013ء میں کپیسٹی پے منٹس کی رقم 185 ارب روپے تھی جو 2024ء میں 2 ہزار 10 ارب روپے سالانہ تک پہنچ چکی ہے، ان 11 سالوں کے دوران آئی پی پیز کو 6 ہزار 300 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں، سب سے زیادہ کپیسٹی پے منٹ 2015ء کے بعد قائم ہونے والے کوئلے سے چلنے والی آئی پی پیز کو کی جار ہی ہے، اس وقت ملک میں سب سے مہنگی بجلی امپورٹڈ کوئلے سے 60 روپے فی یونٹ تک پیدا ہو رہی ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ کپیسٹی پے منٹ کی مد میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی واجب الادا رقم 692 ارب، ونڈ سے چلنے والے آئی پی پیز کی واجب الادا رقم 175 ارب، آر ایل این جی سے چلنے والے آئی پی پیز کی واجب الادا رقم 185 ارب روپے ہے، اسی طرح سولر اور بگاس سے چلنے والے آئی پی پیز کی واجب الادا رقم 112 ارب، نیوکلیئر آئی پی پیز کو واجب الادا رقم 443 ارب روپے ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ آئی پی پیز معاہدے کے تحت رقم تو پوری وصول کرتے ہیں مگر ان کی پیداواری صلاحیت حیران کن طور پر انتہائی کم ہے، نیپرا دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ مالی سال 2022/23ء کے دوران 1200 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت رکھنے والے حب پاور پلانٹ سے صرف 2 اعشاریہ 17 فیصد بجلی ہی پیدا ہوسکی، 421 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت والے روش پاور سے صرف 5 اعشاریہ 7 فیصد اور 1102 میگاواٹ صلاحیت کے کیپکو پاور پلانٹ سے 15 اعشاریہ 7 فیصد بجلی پیدا کی گئی، 1273 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت والے آئی پی پی سے 27 اعشاریہ 7 فیصد پیداوار ہی حاصل کی جا سکی، 1164 میگاواٹ پیداواری صلاحیت والے بھکی پاور پلانٹ سے 56 فیصد جب کہ 1243 میگاواٹ صلاحیت والے بلوکی پاور پلانٹ سے 71 فیصد بجلی ہی پیدا کی گئی۔

نیپرا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023ء میں صرف 25 فیصد تک یوٹیلائزیشن والے آئی پی پیز کو 153 ارب روپے ادا کیے گئے، 50 فیصد تک پیداوار والے آئی پی پیز کو 65 ارب روپے اور 75 فیصد تک یوٹیلائزیشن والے آئی پی پیز کو 214 ارب روپے ادا کیے گئے، نیپرا دستاویزات میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ متبادل توانائی والے پاور پلانٹس سے بجلی کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے، ہوا سے چلنے والے بجلی گھروں سے سستی بجلی استعمال نہیں کی جارہی مگر ان کی کپیسٹی پے منٹ مسلسل ادا کی جارہی ہے۔

جب کہ پاور ڈویژن حکام بھی بجلی مہنگی ہونے کی سب سے بڑی وجہ آئی پی پیز کے ساتھ کپیسٹی پے منٹ معاہدوں کو قرار دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر ان معاہدوں پر نظر ثانی نہ ہوئی تو صارفین کو ہر سال بجلی استعمال کیے بغیر ہی اربوں روپے پاور پلانٹس کو دینے ہوں گے، حالیہ دنوں میں بجلی مزید مہنگی ہونے سے سرکلر ڈیٹ کم ہوگا اور نہ ہی بجلی کے نظام میں بہتری آئے گی لیکن صارفین سے لیے جانے والے یہ اربوں روپے پاور پلانٹس کپیسٹی پے منٹس کی مد میں لے اڑیں گے۔