ملک بھر کے وکلا اور اراکین اسمبلی نے کورٹ فیسوں میں ظالمانہ اضافے کو یکسر مسترد کر دیا

جمعہ 2 اگست 2024 22:36

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 اگست2024ء) ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے پلیٹ فارم سے ملک بھر کے وکلا اور اراکین اسمبلی نے پنجاب حکومت کی جانب سے کورٹ فیسوں میں ظالمانہ اضافے کو یکسر مسترد کردیا ہے اور ہوشربا اضافے کو ظالمانہ، غیرمنصفانہ، غیر شرعی اور انصاف کا قتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس متنازعہ نوٹیفکیشن نے تو انصاف کیلئے آواز اٹھانا ہی ناممکن بنا دیا وکلا اور اراکین اسمبلی نے نوٹیفکیشن کی فی الفور واپسی کے مشترکہ قرارداد منظور کر لی ہے یہ قرارداد گزشتہ روز ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں منعقدہ مشترکہ اجلاس میں منظور کی گئی اجلاس میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ملک ابرار، چوہدری عمران الیاس اور میجر (ر) اقبال، ہائی کورٹ بار کے صدر ملک جواد خالد، سیکریٹری شبیر احمد مرزا اور بار کے میڈیا کوآرڈینیٹر یاسر عرفان گجر کے علاوہ اراکین پاکستان بار کونسل و پنجاب بار کونسل، پنجاب بھر کی بار ایسوسی ایشنوں، ٹیکس بار ایسوسی ایشن اسلام آباد اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے منسلکہ تمام ضلع اور تحصیل بارز کے نمائندوں صدور و سیکرٹریوں نے شرکت کی اس موقع پر بار کے صدر ملک جواد خالد صاحب نے کورٹ فیسوں میں ہزاروں گنا اضافے کو ظالمانہ، غیر منصفانہ ، غیر شرعی اور انصاف کا قتل قرار دیتے ہوئے فنانس ایکٹ 2024 کے مکمل خاتمہ کیلئے قرارداد پیش کی جسکو اتفاق رائے سے منظور کرتے ہوئے حکومت پنجاب کو پیغام دیا کہ اس مشترکہ اجلاس کے مطالبہ کے باوجود اس ظالمانہ اور انصاف قاتل اضافہ واپس نہ لیا گیا تو پھر دمادم مست قلندر ہو گا تمام مقررین نے حکومت پنجاب کی طرف سے کورٹ فیسوں میں حالیہ بے تحاشہ اضافے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس متنازعہ نوٹیفکیشن نے تو انصاف کیلئے آواز اٹھانا ہی ناممکن بنا دیا لہٰذا اسکو فی الفور واپس لیا جائے اجلاس میں اسماعیل ہنیہ کو رتبہ شہادت پالینے پر خراج تحسین پیش کرتیہوئے پوری امت مسلمہ کا ہیرو قرار دیا اور امن کے بین الاقوامی ٹھیکیداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے فلسطین کے مسلمانوں کی مدد کرے اس موقع پر حال ہی میں وفات پانے والے مرحوم وکلا شوکت رؤف صدیقی ، شہیر احمد، ملک اسرار، ذوالفقار مرزا، ملک واجد، میڈم تعظیم اور دیگر وکلا کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کی گئی۔