Live Updates

امریکا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں رکاوٹ ہے‘18ارب ڈالرکا ہرجانہ ادانہیں کرسکتے. خواجہ آصف

دوست ممالک کو شامل کرکے امریکہ کے ساتھ سفارتی چینلزکے ذریعے بات کرنی چاہیے تاکہ وہ ہمیں معاہدہ مکمل کرنے دے.وزیردفاع کا انٹرویو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل 10 ستمبر 2024 14:56

امریکا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں رکاوٹ ہے‘18ارب ڈالرکا ہرجانہ ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 ستمبر ۔2024 ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ امریکا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں رکاوٹ ہے‘ پاکستان کو ایران گیس پائپ لائن معاہدہ سے متعلق کسی اور ملک کو شامل کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ ڈپلومیسی کرنی چاہیے تاکہ وہ ہمیں یہ معاہدہ مکمل کرنے دے. برطانوی نشریاتی ادارے سے انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہاکہ یہ منصوبہ پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے اگر ایران ہرجانہ طلب کرتا ہے تو ہم 18 ارب ڈالر کہاں سے دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ قطعی طور پر عالمی دباﺅ ہمیں مجبور کر رہا ہے کہ ہم ایران سے اپنا معاہدہ پورا نہیں کر پا رہے.

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اس پائپ لائن کے معاہدے کو مکمل نہیں کرتا تو امکان ہے کہ ایران اس کے خلاف 18 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم 18 ارب چھوڑ کر 18 ملین نہیں دے سکتے اس وقت جو ہمارے مالی حالات ہیں اس میں اتنی بڑی رقم ادا کرنا وہ بھی صرف اس لیے کہ امریکہ یا کسی اور کو ناراض نہیں کرنا چاہتے کہ پابندیاں نہ لگ جائیں.

خواجہ آصف نے کہا کہ ہمیں اس میں راستہ نکالنا چاہیے دوسرے ممالک سے کہنا چاہیے کہ وہ امریکہ کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ ہمیں ایران سے گیس پائپ لائن معاہدہ مکمل کرنے دے انہوں نے کہا کہ بھارت ایران کے ساتھ کاروبار کر رہا ہے اور بہت سے ملک ایران کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں ان پر کوئی پابندیاں نہیں لگیں لیکن ہمیں بلیک میل کیا جا رہا ہے جو بہت بڑی زیادتی ہے .

خواجہ آصف نے کہا کہ رواں ماہ وزیراعظم شہباز شریف امریکہ جائیں گے تو انہیں وہاں یہ ضرور بات کرنی چاہیے کہ ہمیں ایران عدالت میں لے کر جا رہا ہے نقصان کا اندیشہ ہے لہذا ہمیں اجازت دیں تاکہ ہم معاہدہ پورا کریں ایران کے مطابق اس نے گیس پائپ لائن کے اپنے حصے کی تعمیر پر دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ پاکستان کی جانب گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور ایران اس سلسلے میں 18 ارب ڈالر کے ہرجانے کے لیے پیرس کی ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے.

وزیر دفاع نے کہا کہ ایران نے برادر اسلامی ملک ہونے کی حیثیت سے بہت صبر کیا ہے یہ معاہدہ 2008-9 میں مکمل ہو جانا چاہیے تھا اس گیس پائپ لائن راہداری نے بھارت بھی جانا تھا اور ہم نے راہداری سے ٹیکس بھی لینا تھا اب اگر ایران عالمی عدالت جا رہا ہے تو اسے اپنے حقوق کا تحفظ کرنا پڑ رہا ہے اگر وہ نہیں جائیں گے تو قانونی حقوق کمپرومائز ہو جائیں گے.

امریکہ متعدد بار پاکستان ایران گیس پائپ لائن کی مخالفت اور اس کے نتیجے میں پابندیوں کا عندیہ دے چکا ہے رواں سال مارچ میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی حمایت نہیں کرتا اور ایران کے ساتھ کاروبار کرنے سے امریکی پابندیوں کی زد میں آنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے. عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں کارروائی کے حوالے سے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے اس کے جواب میں کہا کہ اگر کوئی اپنے ورکروں کو کہے کہ فوجی چھاﺅنیوں یا فوجی دفاتر پر حملہ کرے تو فوجی قانون کے مطابق مقدمہ چلنا چاہیے کوئی ریاست کو چیلنج کرے تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ سول جج کے سامنے پیش ہو کر اگلے دن ضمانت لے کر نکل جائے.

انہوں نے کہا کہ بتانا ہو گا کہ نو مئی کو سارے کے سارے حملے صرف فوجی دفاتر اور چھاﺅنیوں پر ہی کیوں ہوئے؟ اگر جنرل فیض کے خلاف نو مئی سے پہلے اور بعد میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں اور جنرل فیض کہتے ہیں کہ میں نے جو کچھ کیا ہے وہ عمران خان کے کہنے پر کیا ہے تو پھر عمران خان سے بھی پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیا ہے کہ نہیں.

وفاقی وزیرنے نیب ترامیم کی بحالی اور عمران خان کی جانب سے ریلیف کے لیے درخواست پر کہا کہ یہ ترامیم ایک آرڈینیس کا حصہ تھا جو عمران خان کے دور حکومت میں ہوا پی ڈی ایم حکومت کے وقت ہم نے اسی آرڈینس کو ایکٹ میں تبدیل کیا اور پارلیمنٹ سے پاس کروایا اس کے بعد عمران خان نے اپنے ہی آرڈینس کے خلاف سپریم کورٹ درخواست دے دی جو سپریم کورٹ نے منظور کر لی اس کے بعد ہم اپیل میں چلے گئے تو عدالت ترامیم بحال کر کے حکومتی اپیلیں منظور کر لیں، اور اب اپیلیں منظور ہونے کے بعد پہلا فائدہ اٹھانے والا بھی عمران خان ہے.
Live عمران خان سے متعلق تازہ ترین معلومات