جعفر ایکسپریس حملہ ، ریلوے ملازمین سمیت مزید60 مسافر بازیابی کے بعد کوئٹہ پہنچ گئے
مسافروں کو سخت سیکیورٹی میں بذریعہ بس کوئٹہ لایا گیا، جعفر ایکسپریس حملے کے بعد 12 ریلوے ملازمین کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پہنچے تو اس موقع پر ریلوے اسٹیشن پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے
فیصل علوی
جمعرات 13 مارچ 2025
11:35
(جاری ہے)
بازیاب مسافروں میں 45 مسافرجبکہ 12 ریلوے ملازمین اور 3 محکمہ ڈاک ملازم شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا تھا کہ جعفر ایکسپریس کے یرغمالی مسافر بازیاب ہوگئے اور تمام 33 دہشتگرد ہلاک کردئیے گئے تھے۔دنیا نیوز کے پروگرام میںگفتگوکرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ علاقہ دشوار گزار تھا۔ دہشتگردوں نے یرغمالیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جس میں بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں۔ بازیابی کا آپریشن فوری طور پرشروع کردیا گیا تھاجس میں آرمی، ائیرفورس، فرنٹیر کور اور بعدازاں ایس ایس جی کے جوانوں نے حصہ لیا تھا جنہوں نے مرحلہ وار یرغمالیوں کو رہا کروایا تھا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران کسی مسافر کو نقصان نہیں پہنچا لیکن آپریشن سے قبل دہشگردوں کی بربریت میں 21 مسافر شہید ہوگئے تھے جبکہ ایف سی کے 4 جوان شہید ہوئے تھے جن میں سے تین ایف سی کے جوانوں کو قریبی پکٹ پر دہشتگردوں نے کلیئرنس آپریشن سے پہلے شہید کیا تھا اور ایک جوان گزشتہ روز آپریشن کے دوران شہید ہوا تھا۔ دہشتگردوں نے مسافروں کو ٹولیوں میں بٹھایا ہوا تھا اور درمیان میں خودکش بٹھائے گئے تھے۔ خودکش بمباروں کو سکیورٹی فورسز کے نشانہ بازوں نے ہلاک کیاتھا۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی کے وہ شہریوں کو سڑکوں پر یا ٹرینوں پر نشانہ بنائیں، جعفر ایکسپریس کے واقعے نے گیم کے رولز تبدیل کردئیے تھے۔ ان دہشتگردوں کا دین اسلام، پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیںتھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جیسے ہی واقعہ ہوا چند منٹوں میں بھارتی میڈیا پر گمراہ کن رپورٹنگ شروع ہوئی تھی۔ پرانی تصاویر، ویڈیوز اور اے آئی ویڈیوز بھارتی میڈیا پر نشر کی گئیں تھیں۔ یہ دہشتگردوں اور ان کے آقاوں کا گٹھ جوڑ ظاہر کرتے تھے۔ ایسے موقع پر کچھ مخصوص سیاسی عناصر ملک میں بھی بڑھ چڑھ کر سوشل میڈیا کو ایکٹو کرلیتے تھے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افسوس ہوتا تھا کہ کچھ عناصر اقتدار کی ہوس میں قومی مفاد کو بھی بھینٹ چڑھا رہے تھے۔ عوام کو بخوبی اب اس انتشاری سیاست کے پیچھے ہاتھ بھی سمجھ آرہے تھے۔مزید اہم خبریں
-
ایران کی طرف سے آج ہمیں جواب موصول ہوجانا چاہئے، امید ہے سنجیدہ تجاویز سامنے آئیں گی
-
2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے
-
سلامتی کونسل: آبنائے ہرمز پر امریکہ اور بحرین کی مشترکہ قرارداد
-
تحفظ ماحول: تیل کی بڑھتی قیمتیں پلاسٹک سے دوری کا سبب ہو سکتی ہیں
-
آسٹریلیا کا کالعدم بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا اعلان
-
عوام کو مہنگائی کا تگڑا جھٹکا، مہنگائی کی شرح 15 فیصد سے بھی اوپر چلی گئی
-
برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کی لیبر پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان
-
ایران کے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے ‘ ایران کے نئے سمندری قوانین کا احترام کیا جائے.ایرانی ترجمان
-
آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے.ایرانی سفیر
-
آبنائے ہرمز میں ہونے والی پیش رفت توانائی اور خوراک کی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے. ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل
-
آبنائے ہرمز میں تیل بردار مصنوعات سے لدا چینی ٹینکر حملے کا نشانہ بنا ہے. ترجمان چینی وزارت خارجہ
-
امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی ممالک کو انٹرسیپٹر میزائل اور دیگر اہم ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.