14سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونا ملکی معاشی تاریخ کا سنگ میل ہے، وزیراعظم شہباز شریف

الحمدللہ! یہ کارنامہ ریکارڈ ترسیلات زر، برآمدات میں اضافے اور معیشت میں اصلاحات پر مسلسل توجہ کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے، پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 2.1 ارب ڈالر کا سالانہ سرپلس معاشی ٹیم کے عزم و حوصلے کو بھی ظاہر کرتا ہے، وزیراعظم کا بیان

Faisal Alvi فیصل علوی ہفتہ 19 جولائی 2025 16:00

14سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونا ملکی معاشی تاریخ کا سنگ ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19جولائی 2025)وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 14سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونا ملکی معاشی تاریخ کا سنگ میل ہے، الحمدللہ! یہ کارنامہ ریکارڈ ترسیلات زر، برآمدات میں اضافے اور معیشت میں اصلاحات پر مسلسل توجہ کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے، اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے جاری کھاتوں (کرنٹ اکاؤنٹ) میں 2.1 ارب ڈالر کا سالانہ سرپلس معاشی ٹیم کے عزم و حوصلے کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس کامیابی پر اقتصادی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک محنت اور مؤثرحکمت عملی کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ اہم سنگ میل سمندر پار پاکستانیوں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2.1 ارب ڈالرز پہنچنے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 22سالوں کی بلندترین سطح پر پہنچنا خوش آئند ہے۔

14 برس بعد پہلی بار پاکستان کو سالانہ بنیادوں پر کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس حاصل ہوا ہے جو کہ گزشتہ 22 برسوں کے بعد سب سے بڑا سرپلس ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روزسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس ہوگیا تھا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2024-25ء میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 2.1 ارب ڈالر سرپلس رہا تھا۔

سٹیٹ بینک کا کہناتھا کہ ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس ہوگیا تھا۔ مالی سال 2023-24ء میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 2 ارب ڈالر خسارے میں رہا تھااسی طرح  جون 2024 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 50 کروڑ ڈالر تھا جبکہ مالی سال 2023-24 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب ڈالر تھا۔مرکزی بینک کا یہ بھی کہنا تھا کہ مالی سال 2011ء کے بعد پہلی بار ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہواتھا۔ جون 2025ء ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 33 کروڑ ڈالر سرپلس رہاتھا۔جون 2024ء میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ 50 کروڑ ڈالر خسارے میں تھا۔ماہرین کا کہنا تھا کہ ریکارڈ ترسیلات زر سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا تھا۔