وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت تھر کوئلہ و توانائی بورڈ کا اجلاس

تھر میں جاری توانائی منصوبوں کا جائزہ، اہم حکمت عملیوں کی منظوری،اینگرو کمپنی کیلیے نظرثانی شدہ ٹیرف کی منظوری دے دی گئی تھر کے بلاک ون میں تجارتی بنیادوں پر کوئلہ نکالنے کیلیے سینو سندھ ریسورسز کیلیے ٹیرف منظور،*18 فیصد شرح منافع کو 31 دسمبر 2026 تک توسیع دے دی

بدھ 30 جولائی 2025 20:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 جولائی2025ء)وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت تھر کوئلہ و توانائی بورڈ(ٹی سی ای بی)کا 29 واں اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا، جس میں تھر کے جاری توانائی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور کئی اہم حکمتِ عملی پر مبنی اقدامات کی منظوری دی گئی تاکہ علاقے میں کوئلے کی کان کنی اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

وزیرِ اعلی نے بتایا کہ سال 2019 سے اب تک تھر کے کوئلہ توانائی منصوبوں سے 2600 میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کی جا چکی ہے جو کہ ملک کے لاکھوں گھروں کو کم لاگت میں بجلی فراہم کر رہی ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے بجلی کی فی یونٹ قیمت تقریبا 4.8 روپے رہی، جبکہ درآمدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت تقریبا 19.5 روپے فی یونٹ ہے۔

(جاری ہے)

اس سے ملک کو زرمبادلہ میں تقریبا 1.3 ارب امریکی ڈالر کی بچت ہوئی ہے۔اجلاس میں صوبائی وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ، صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ، صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو، رکن قومی اسمبلی شازیہ عطا مری، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، متعلقہ سیکریٹریز اور بورڈ کے اراکین نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور دیگر وفاقی نمائندے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔

تھر کوئلہ و توانائی بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے وزیرِ اعلی نے اجلاس کی صدارت کی، جس میں ملک کے مقامی کوئلے پر مبنی توانائی کے شعبے کو فروغ دینے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔بورڈ نے سندھ اینگرو کوئلہ مائننگ کمپنی(ایس ای سی ایم سی)کی جانب سے اکتوبر تا دسمبر 2024 اور جنوری تا مارچ 2025 کے لیے پیش کی گئی "قیمتِ کوئلہ" کے اشاریہ جات پر مبنی نظرثانی شدہ نرخنامے (ٹیرف)کی منظوری دے دی تاکہ توانائی منصوبوں کے لیے کوئلے کی فراہمی میں استحکام اور پیش بینی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں تھر بلاک نمبر 1 میں سالانہ 78 لاکھ ٹن کوئلہ پیدا کرنے والی کمپنی "سینو سندھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ" کے لیے کمرشل آپریشنز کی تاریخ (تجارتی سرگرمیوں کے آغاز)کے مرحلے کا ٹیرف بھی منظور کیا گیا جو کہ منصوبے کے مکمل آغاز کی طرف ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس منظوری سے مقامی سطح پر توانائی پیدا کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔سندھ حکومت نے تھر کول سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کی منظوری دے دی ہے جن میں تھر کول منصوبوں پر سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والی آمدنی پر اٹھارہ فیصد واپسی (انٹرنل ریٹ آف ریٹرن)کی مراعات کو 31 دسمبر 2026 تک بڑھانا شامل ہے۔

اس اقدام کا مقصد موجودہ اور ممکنہ سرمایہ کاروں کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ خراب معاشی حالات کے باعث منصوبوں میں تاخیر سے بچا جا سکے۔تھر کول اینڈ انرجی بورڈ(ٹی سی ای بی)نے 2011 کے ایکٹ میں ترامیم کی منظوری بھی دی ہے جس کے تحت بورڈ کا ایگزیکٹو بازو پانی کی قیمتوں میں اضافے کی آزادانہ جانچ پڑتال کر سکے گا۔ یہ اقدام شفافیت اور ریگولیٹری نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اجلاس میں تھر کول کے صنعتی استعمال، خاص طور پر کھاد اور سیمنٹ کی تیاری میں استعمال کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ بورڈ نے فوجی فرٹیلائزر کمپنی سمیت دیگر اداروں کی تحقیق کو سراہا جو کوئلے سے کھاد اور سیمنٹ کی تیاری کے امکانات پر کام کر رہے ہیں۔جامشورو کے کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھر کو تھر کول پر منتقل کرنے کی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔

تھر ریلوے لنک منصوبے کی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی گئی جو اس وقت 35 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ اس منصوبے سے تھر کول کی نقل و حمل اور علاقائی رابطہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔ منصوبہ جنوری 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھر کول ہماری توانائی کی خود کفالت کی کنجی بن چکا ہے۔ آج کے فیصلے ہمارے قومی توانائی کے وژن کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔

وزیر توانائی ناصر حسین شاہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ مراعات میں توسیع سے سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہے گا اور منصوبوں میں وسعت آئے گی، جس سے فی ٹن کوئلے کی قیمت میں بھی کمی آئے گی۔تھر کول اینڈ انرجی بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق شاہ نے بتایا کہ تھر فیلڈ میں لگ بھگ 175 ارب ٹن لنائیٹ کوئلہ موجود ہے جو دنیا کے بڑے ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔سندھ حکومت نے تھر کول منصوبے کی ترقی کے لیے مکمل عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ توانائی میں خود انحصاری، معاشی ترقی اور پاکستان کے لیے پائیدار مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔