Live Updates

پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچادی، لاکھوں افراد کی نقل مکانی، لاہور میں پوش سوسائٹی بھی ڈوب گئی

صوبے میں مواصلات کا نظام درہم برہم، کئی علاقوں میں لوگ ڈوبے مکانوں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور، کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں

Sajid Ali ساجد علی جمعہ 29 اگست 2025 10:41

پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچادی، لاکھوں افراد کی نقل مکانی، لاہور میں ..
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اگست 2025ء ) صوبہ پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچادی ہے جہاں لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی، صوبے میں مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا، اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں پارک ویو جیسی پوش سوسائٹی بھی ڈوب گئی، کئی علاقوں میں لوگ ڈوبے مکانوں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں اور کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں جاری بارشوں اور بھارت کی طرف سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے دریائے چناب، ستلج اور راوی میں اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، لاہور کے متعدد علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوچکا ہے جہاں پارک ویو جیسی پوش سوسائٹی بھی ڈوب چکی ہے جہاں دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کی وجہ سے فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد، مریدوالا کے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ فیصل آباد میں تاندلیانوالہ کے مقام پردریائے راوی میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے جب کہ وزیر آباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں کے دیہاتوں میں سیلاب کا پانی داخل ہوچکا ہے اور ان کا زمینی رابطہ کٹ چکا ہے، اسی طرح دریائے چناب میں چنیوٹ برج پرپانی کے بہاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، ملتان میں دریائے چناب کا خطرناک ریلہ آئندہ 48 گھنٹوں تک شہر کی حدود میں داخل ہونے کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کا فیصلہ کرلیا گیا۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ سیلاب گزشتہ چار دہائیوں کا بدترین سیلاب ہے جس نے سیکڑوں دیہات کو تہس نہس کر دیا اور اہم اناج کی فصلیں تباہ کردی ہیں، سیلابی صورتحال کے باعث نقل مکانی کا سلسلہ جھنگ، شورکوٹ، خانیوال، ملتان، مظفرگڑھ، شجاع آباد، جلالپور پیروالا اور علی پور سمیت متعدد اضلاع اور قصبوں میں جاری ہے، تینوں دریاؤں میں شدید طغیانی سے 14 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 1692 موضع جات زیرِ آب آنے اور اب تک 17 اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اب تک 2 لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 355 ریلیف کیمپوں میں 1372 متاثرہ افراد مقیم ہیں، 6 ہزار 656 کو طبی امداد فراہم کی گئی، مجموعی طور پر 90 ہزار 348 افراد اور ایک لاکھ 54 ہزار980 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، چناب میں 991 دیہات ڈوب گئے، سیالکوٹ میں 395، جھنگ میں 127، ملتان میں 124، چنیوٹ میں 48، گجرات میں 66، خانیوال میں 51، حافظ آباد میں 45، سرگودھا میں 41، منڈی بہاالدین میں 35 اور وزیرآباد میں 19 دیہات متاثر ہوئے۔

پی ڈی ایم اے کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ دریائے راوی میں نارووال کے 75، شیخوپورہ کے 4 اور ننکانہ صاحب کا ایک گاؤں زیرِ آب آیا جہاں سے 11 ہزار افراد اور 4500 مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے، ستلج میں 361 دیہات متاثر ہوئے جن میں قصور کے 72، اوکاڑہ کے 86، پاکپتن کے 24، ملتان کے 27، وہاڑی کے 23، بہاولنگر کے 104 اور بہاولپور کے 25 دیہات شامل ہیں یہاں سے ایک لاکھ 27 ہزار سے زائد افراد اور 70 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات