تعلقات کی بحال ،بھارت ، کینیڈا نے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں نئے ہائی کمشنر نامزد کر دئیے

جمعہ 29 اگست 2025 15:50

اوٹاوا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اگست2025ء)بھارت اور کینیڈا نے تعلقات بحال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں اپنے نئے ہائی کمشنر نامزد کر دئیے ۔غیرملکی میڈیاکے مطابق کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند جاری بیان میں نے کہا کہ کرسٹوفر کوٹر بھارت میں کینیڈا کے نئے ہائی کمشنر ہوں گے۔انہوں کہاکہ نئے ہائی کمشنر کی تقرری کینیڈا کے اس مرحلہ وار حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے جس کے ذریعے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے اور دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ جلد ہی سپین میں اپنے موجودہ ایلچی دنیش پٹنائک کو اوٹاوا میں تعینات کرے گا۔کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔

(جاری ہے)

ہردیپ سنگھ نجر کو 18 جون 2023 کو وینکوور کے مضافات میں موجود گردوارے کی پارکنگ میں نقاب پوش حملہ آوروں نے گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے کئی ماہ بعد کینیڈا کے سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا تھا کہ کینیڈا کے پاس اس قتل میں بھارتی انٹیلی جنس کے ملوث ہونے کے معتبر شواہدموجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے کینیڈا کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی۔بھارت نے ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور عارضی طور پر کینیڈین شہریوں کے ویزوں پر پابندی لگا دی تھی۔

کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل میں بھارتی عہدیداروں کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد ایک نئے سفارتی تنازع نے جنم لیا تھا۔کینیڈا کی حکومت نے بھارت کے ہائی کمشنر سمیت پانچ دیگر سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا اور بعد میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت نے بھی کینیڈا کے چھ سفارت کاروں کو ملک چھوڑ دینے کی ہدایت کی تھی۔

جون میں تعلقات میں اس وقت بہتری آئی جب کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو البرٹا میں جی سیون سربراہی اجلاس میں مدعو کیا اور دونوں ممالک نے اپنے اعلی سفارت کاروں کو بحال کرنے پر اتفاق کیا۔بھارت نے کینیڈا میں رہنے والے خالصتان تحریک کے حامیوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے پر کینیڈا کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خالصتان تحریک بھارت میں پابندی عائد ہے تاہم اسے کینیڈا میں موجود سکھ برادری کی حمایت حاصل ہے۔ کینیڈا کی آبادی کا تقریباً 2فیصد سکھ ہیں۔