مقبوضہ جموں وکشمیر میں محاصرے اور تلاشی کی پر تشدد کارروائیاں جاری،مودی حکومت ہر ہتھکنڈہ استعمال کر رہی ہے، رپورٹ

جمعہ 29 اگست 2025 23:33

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز اہلکاروں کیطرف سے کپواڑہ، بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی پر تشدد کارروائیاں جاری ہیں، جس سے مقامی آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوجی، پیرا ملٹر ی ، پولیس اور سپیشل آپریشن گروپ کے اہلکار ان اضلاع کے مختلف علاقوں میںگزشتہ تین روز سے تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فوجیوں نے بانڈی پورہ کے علاقے گریز میں گزشتہ روز دو کشمیری نوجوان شہید کیے تھے۔ قابض بھارتی فورسز اہلکار گھروں میں گھس کر خواتین، بوڑھوں اور بچوں سمیت مکینوں کو سخت ہراساں کر رہے ہیں جبکہ نوجوانوں کو کیمپوں اور تھانوں میں لے جا کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

(جاری ہے)

کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بدنام کرنے کے لیے ہر ہتھکنڈہ استعمال کر رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ہندوتوا حکومت اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے میڈیا کے ذریعے جھوٹی خبریں پھیلا رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت نے کشمیریوں کی نئی نسل کو خطے کے تاریخی پس منظر سے دور رکھنے کے لیے ممتاز کشمیری، بھارتی اور بین الاقوامی مصنفین کی کتابوں پر پابندی لگا دی ہے جب کہ خرم پرویز جیسے انسانی حقوق کے کارکنوں کو جھوٹے الزامات کے تحت حراست کا سامنا ہے۔

دریں اثنابھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموںوکشمیر میں 25علمی اور تاریکی کتابوں پر پابندی کے حکام کے فیصلے کے خلاف دائر عرضداشت پر سماعت سے انکار کر دیاہے۔ جسٹس سوریہ کانت، جویمالیا باغچی اور وپل ایم پنچولی پر مشتمل سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے درخواست گزار ایڈوکیٹ شاکر شبیر کو مقبوضہ علاقے کی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔

مقبوضہ جموںوکشمیر کے محکمہ داخلہ نے رواں ماہ کے آغاز میں 25ایسی کتابیں ضبط کرنے کا حکم دیا تھا جن میں اسکے مطابق علیحدگی پسند بیانیے کو فروغ دینے والا مواد موجود ہیں۔مقبوضہ وادی کشمیر کو بیرونی دنیا سے ملانے والی واحد سرینگر جموںشاہراہ آج مسلسل پانچویں دن بھی بند رہی ۔ موصلا دھار بارشوں کے نتیجے میں ہونے والی شدید لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے شاہراہ سخت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔