‘گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے سلسلے کی وجہ سے ہزاروں خاندان شدید اذیت اور کرب میں مبتلا ہیں، نصر اللہ بلوچ

ہفتہ 30 اگست 2025 20:45

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 اگست2025ء) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے سلسلے کی وجہ سے ہزاروں خاندان شدید اذیت اور کرب میں مبتلا ہیں۔اس سلسلے میں رواں سال تیزی لائی گئی اور سینکڑوں نوجوان ، بزرگوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے انہیں بھی لاپتہ کیا گیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے عدالت روڈ پر احتجاجی کیمپ میں گزشتہ روز جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن کے موقع پر پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ نصراللہ بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد کو نہ تو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی اطلاع دی جاتی ہے، جس سے پورا خاندان اذیت کا شکار رہتا ہے۔

(جاری ہے)

ایک متاثرہ خاتون نے کہا کہ "کاش ہمارے پیارے فوت ہوتے تو کم از کم ہم ان کی تدفین کر پاتے، مگر آج ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔

نصراللہ بلوچ نے اپنے چچا علی اصغر بنگلزئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے بار بار ان کی بازیابی کے احکامات دئیے مگر کوئی عملدرآمد نہ ہوا ایسے رویہ نے عدالتی احکامات کو بے وقعت بنا دیا ہے۔انہوںنے کہا کہ مختلف حکومتوں نے ایسے آرڈیننس نافذ کیے جن کے ذریعے اداروں کو غیر محدود اختیارات دئیے گئے، جن میں ادارے کسی بھی شخص کو صرف شک کی بنا کر بغیر وارنٹ گرفتار کرکے 3سے 9 ماہ اپنی حراست میں رکھ سکتے ہیں، حتی کہ دوران حراست کسی کو قتل کرنے پر بھی کوئی جواب دہی نہیں ہوتی۔

انہوںنے کہا کہ جبری لاپتہ کرنا صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی نہیں ہے بلکہ آئینِ پاکستان، بنیادی شہری آزادیوں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو "زندگی اور آزادی" کا تحفظ دیتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 10 کے تحت کسی بھی شخص کو حراست میں لیے جانے پر اس کے قانونی حقوق کی پاسداری لازم ہے، جس میں گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ اور جلد از جلد عدالت میں پیش کرنا اور وکیل تک رسائی جیسے بنیادی حقوق شامل ہیں۔

کسی شہری کو بغیر اطلاع، عدالتی اجازت یا قانونی جواز کے لاپتہ کرنا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ فوجداری قوانین کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے۔پاکستان ایک جمہوری ریاست کہلاتا ہے تو انسانی حقوق کے احترام کا پابند ہونا چاہئے۔ جبری گمشدگیاں نہ صرف شہریوں کے بنیادی اعتماد کو مجروح کرتی ہیں بلکہ ریاست کے نظامِ انصاف اور آئینی اداروں پر سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتی ہیں ۔

انہوںنے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔ لاپتہ بلوچوں کو ماورائے قانوں قتل کرنے کے سلسلے بھی فوری طور پر ختم کیا جائے جن پر الزام ہے انہیں منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کرکے قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے جو لاپتہ افراد اس دنیا میں نہیں رہے انکے لواحقین کو معلومات فراہم کی جائے اس غیر قانونی اقدام میں ملوث عناصر کے خلاف شفاف اور قانونی کارروائی کی جائے۔

جبری گمشدگیوں کا مستقل سدباب کیا جائے اور ان کے خلاف انسانی اقدار کے عین مطابق جامع قانون سازی کو یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر لاپتہ نوجوان محمود علی لانگو، نعمت اللہ، عبد الفتح، صدام حسین کرد، غلام فاروق سرپرہ اور جہانزیب محمد حسنی کے اہل خانہ بھی شریک تھے۔ اور اپنے پیاروں کی جدائی کے حوالے سے اپنے اذیت بیانات دیئے اور انصاف کا مطالبہ کیالواحقین نے کہا کہ وہ اپنے پیاروں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے اور انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔