پاکستان بیت المال خود انحصاری اور لاکھوں افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہے، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال سینیٹر کیپٹن (ر) شاہین خالد بٹ

اتوار 31 اگست 2025 15:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 31 اگست2025ء) منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال (ایم ڈی پی بی ایم) سینیٹر کیپٹن (ر) شاہین خالد بٹ نے کہا ہے کہ پاکستان بیت المال صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور مالی امداد تک رسائی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ پیشہ وارانہ اور تکنیکی تربیت کے ذریعے خود انحصاری کے فروغ کے ساتھ ساتھ لاکھوں پسماندہ شہریوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لیے پرعزم ہے۔

اتوار کو قومی خبر رساں ادارے ’’اے پی پی ‘‘کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے شاہین خالد بٹ نے کہا کہ پی بی ایم آج ملک کی 46 فیصد آبادی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور اس کے دروازے کسی بھی مستحق فرد کے لیے کبھی بند نہیں ہوتے جو مدد چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا جب میں نے بیت المال میں شمولیت اختیار کی تو میں نے خیرات سے آگے بڑھنے اور لوگوں کو بااختیار بنانے پر توجہ دینے کا عہد کیا،ہمارا بنیادی مقصد بحالی ہے، فائدہ اٹھانے والوں کو انحصار کرنے کی بجائے خود کفیل بنانا ہماری ترجیح ہے، اس وژن کے تحت 55 افراد کو پیشہ وارانہ مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا تھا اور یہ سب اب خود کما رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ان کو اب بیت المال کی مدد کی ضرورت نہیں ہے جو سب سے زیادہ حوصلہ افزا بات ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کو اب پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔ایم ڈی نے کہا کہ اگرچہ تعلیمی سپورٹ ایک اہم ترجیح ہے لیکن اسے عملی تربیت کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے۔ کم آمدنی والے خاندان اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ صرف تعلیم ہی ان کے مسائل کو ختم کر دے گی لیکن جب وہ اپنی توقع کے مطابق ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو مایوسی بڑھ جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم پلمبنگ، کارپینٹری، الیکٹریکل ورک اور دیگر شعبوں میں مہارت پر مبنی کورسز کو جارحانہ طور پر فروغ دے رہے ہیں تاکہ تعلیم کو آمدنی کا ذریعہ بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نیو ٹیک اور دیگر اداروں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کر رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بیرون ملک جانے کے خواہشمند افراد کو باعزت روز گار کے لیے مناسب طریقے سے تربیت دی جائے۔

پی بی ایم کی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے پانچ سالوں میں تنظیم نے 15.43 ارب روپے فراہم کئے ہیں جس سے کینسر، گردے کی خرابی، دل کی بیماریوں اور دیگر نازک حالات میں مبتلاایک لاکھ 15 ہزار سے زائد مریضوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس عرصے کے دوران دو ہزار سے سے زیادہ افراد کوکلیئر امپلانٹس کی سہولت بھی فراہم کی گئی تھی۔

سینیٹر کیپٹن شاہین خالد بٹ نے کہا کہ ہم ایسی طبی خدمات کا احاطہ کر رہے ہیں جو اکثر ترقی یافتہ ممالک میں بھی پوری طرح سے دستیاب نہیں ہیں۔ کم آمدنی والے خاندان سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی مریض پاکستان بیت المال کے خرچ پر سرکاری ہسپتالوں سے مفت علاج کروا سکتا ہے۔ ہمارے پاس آنے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے میں وزیر اعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ ہمارے بجٹ میں اضافہ کریں تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کی خدمت کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کے میدان میں پی بی ایم نے 32,197 سکالرشپس فراہم کیے ہیں جن کی مال یت دو لاکھ روپے ہے۔ پانچ سالوں میں 9.79 ارب روپے جبکہ چائلڈ لیبررز کی بحالی کے 160 سکول 22,792 بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔اس وقت 40 اضلاع میں 46 سویٹ ہومز تقریباً 4,600 یتیموں کو رہائش اور تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یتیم خانوں نے پراعتماد، کامیاب شہری پیدا کیے ہیں جو اب ڈاکٹر، انجینئر، آرمی آفیسرز اور پولیس اہلکار بن کر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنان بیت المال کا ایک اور اہم مقصد ہے ۔ اس وقت کل 165 خواتین کو بااختیار بنانے کے مراکز کام کر رہے ہیں جہاں پر اس سال 19,800 خواتین کو تربیت دی جا رہی ہے جبکہ پروگرام کے آغاز سے اب تک تقریباً نصف ملین خواتین مستفید ہو چکی ہیں۔یہ مراکز سلائی، بیوٹی سکلز اور کوکنگ کے کورسز کرا رہے ہیں اور اب کورسز میں ڈیجیٹل لٹریسی اور آئی ٹی ٹریننگ بھی شامل کی جائے گی۔

سینیٹر کیپٹن شاہین خالد بٹ نے کہا کہ ہم نے ایک وظیفہ سکیم کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت لڑکیوں کو ان کی چھ ماہ کی تربیت کے دوران ایک اچھی رقم ملے گی جس سے وہ وقار اور اعتماد کے ساتھ اپنا پیشہ ورانہ سفر شروع کر سکیں گی۔انہوں نے وضاحت کی کہ پی بی ایم 17 پناہ گاہیں بھی چلا رہا ہے جنہوں نے پانچ سالوں میں 9.66 ملین لوگوں کی خدمت کی ہے جبکہ 30 فوڈ گاڑیاں ملک بھر میں 7.75 ملین کھانے کی ترسیل کر چکی ہیں۔

معذور افراد کی مدد کے لئے 27 ہزار سے زائد خاندانوں کو وہیل چیئرز اور مصنوعی اعضاء جیسے معاون آلات کے لیے 394 ملین روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ معذور افراد پورے معاشرے کی ذمہ داری ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں ہر کوئی انہیں عوامی مقامات اور کام کی جگہوں پر جگہ دیتا ہے۔ پاکستان میں بھی ہر جگہ ریمپ اور دیگر سہولیات کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے چیلنجز کو یاد دلائے بغیر زندگی گزار سکیں۔

ایم ڈی پی بی ایم سینیٹر کیپٹن شاہین خالد بٹ نے اس بات پر زور دیا کہ پی بی ایم اپنے کام میں مکمل شفافیت کو یقینی بنا رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہاہم نقد رقم میں لین دین نہیں کرتے۔ طبی سہولیات، تعلیم اور مالی امداد کے لیے تمام ادائیگیاں چیک کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ ہمارا نظام میں بدعنوانی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بیت المال کے 60 فیصد آپریشنز پہلے ہی ڈیجیٹائز کیے جا چکے ہیں ، درخواست دہندگان صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم میں معاونت کے لیے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں اور یہ عمل جلد ہی مکمل طور پر خودکار ہو جائے گا۔

مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی بی ایم نے ایک واضح روڈ میپ اپنایا ہے جس میں ای گورننس، ڈیجیٹلائزیشن، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، غریبوں کی معاشی بحالی، صحت کی دیکھ بھال کی توسیع اور بچوں کی دیکھ بھال کے اقدامات کی بحالی پر توجہ دی گئی ہے۔ مزدوروں کے بچوں کے لیے پی بی ایم سکولوں میں آئی ٹی لیبز قائم کرنے اور تمام پروجیکٹس میں بائیو میٹرک ادائیگی کے نظام کے فروغ کے منصوبے بھی جاری ہیں۔

انہوں نے کہا ہم بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون کے لیے بھی شکر گزار ہیں جن میں ترکیہ کا ادارہ TIKA بھی شامل ہے جس نے ہمارے یتیم خانوں اور مراکز کے لیے کھانا فراہم کرنے کے لیے ایک تجارتی باورچی خانہ قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔شاہین خالد بٹ نے کہا کہ پاکستان بیت المال غریب ترین افراد کی شفافیت، وقار اور شمولیت کے ساتھ خدمت کرنا ہمارا مشن ہے۔\395