27 ویں آئینی ترمیم جمہوریت پر حملہ ہے، ننگی ڈکٹیٹر شپ مسلط کر دی گئی ہے، عوامی تحریک

آئین تمام شہریوں کو برابر قرار دیتا ہے، مگر 27 ویں ترمیم کہتی ہے کہ حکمران بالاتر ہیں جن پر کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہو گی، وسند تھری ایڈوکیٹ

اتوار 16 نومبر 2025 19:20

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 نومبر2025ء) عوامی تحریک کے مرکزی صدر وسند تھری ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم جمہوریت پر حملہ ہے، ننگی ڈکٹیٹر شپ مسلط کر دی گئی ہے، اس ترمیم کے ذریعے محمد علی جناح کے پاکستان کا قتل کر دیا گیا ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی کی بدترین فاشسٹ حکمرانی قائم ہے، 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آمروں کو احتساب سے استثنیٰ دے کر ملک میں بادشاہت قائم کی گئی ہے، آئین تمام شہریوں کو برابر قرار دیتا ہے، مگر 27 ویں ترمیم کہتی ہے کہ حکمران بالاتر ہیں جن پر کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہو گی، چند حکمرانوں کو احتساب سے بچا کر آئین کو معطل کر دیا گیا ہے۔

27 ویں آئینی ترمیم، کارپوریٹ فارمنگ، نہروں اور معدنی وسائل پر ڈاکوں، سندھ کو تقسیم کرنے کی سازشوں، قبائلی دہشت گردی، کارو کاری اور خواتین کے قتل کے خلاف بڑی تعداد میں خواتین نے سٹی گیٹ سے حیدرآباد پریس کلب تک مارچ کیا۔

(جاری ہے)

عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈوکیٹ وسند تھری، سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سمون، ڈاکٹر ماروی سندھو، عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ ساجد حسین مہیسر، مرکزی رہنما نور احمد کاتیار، ستار رند، لال جروار، ڈاکٹر رسول بخش خاص خیلی، عبدالقادر رانٹو، ماہ نور ملاح، سبھانی ڈاہری، حسنہ راہوجو، شمشاد بپڑ، بختاور ملاح، سندھی گرلز اسٹوڈنٹ تحریک کی مرکزی آرگنائزر ایڈوکیٹ کونج لاشاری، ساجدہ پرھیاڑ، پربھات ہالیپوٹو، سندھی ہاری تحریک کے مرکزی صدر غلام مصطفی چانڈیو، سندھی شاگرد تحریک کے مرکزی صدر ایڈوکیٹ نوید عباس کلہوڑو اور دیگر رہنماں کی قیادت میں نکلنے والا مارچ سٹی گیٹ سے شروع ہوا، اور سول اسپتال روڈ، تلک چاڑھی، حیدر چوک اور حیدرآباد شہر کے مختلف مرکزی چوراہوں اور راستوں سے گزرتا ہوا حیدرآباد پریس کلب پہنچا، جہاں جلسہ عام منعقد کیا گیا۔

اس موقع پر کالم نگار و ادیب جامی چانڈیو، ایڈووکیٹ غفار ناریجو (جنرل سیکریٹری میرپور خاص بار ایسوسی ایشن)، ایڈووکیٹ اسرار چانگ (جنرل سیکریٹری سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن حیدرآباد)، کالم نگار و محقق فہیم نوناری و دیگر وکیل رہنماں اور سول سوسائٹی کے نمائندے یکجہتی کے لئے مارچ میں شریک ہوئے۔عوامی تحریک کے مرکزی صدر وسند تھری ایڈوکیٹ نے مطالبہ کیا کہ ملک کے آئین کی بنیاد 1940 کی قرار دادِ پاکستان کے تحت رکھی جائے۔

حکمرانوں نے 27 ویں اور 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کا چہرہ مسخ کر دیا ہے۔ ان ترامیم کے ذریعے عوام کے بنیادی انسانی حقوق معطل کر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو غلام بنا دیا گیا ہے، اب حکمران سندھ کے معدنی وسائل سمیت دیگر حقوق پر ڈاکہ ڈالیں گے جسے کوئی عدالت نہیں روک سکے گی۔ اب حکمرانوں کی لوٹ مار اور دھاندلی سے بچانے کے لیے کوئی آزاد ادارہ نہیں بچا، انہوں نے کہا کہ ملک کے وسائل، زمینوں اور قدرتی معدنیات کو بیچنے کے لیے ایس آئی ایف سی SIFC جیسا آئین سے بالاتر ادارہ قائم کیا گیا ہے۔

کارپوریٹ فارمنگ مظلوم قوموں کی زمینوں پر قبضے کی منظم سازش ہے۔ سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمینیں کمپنیوں کو دی جا رہی ہیں۔ وسند تھری نے کہا کہ سندھ ہزاروں سالہ تہذیبی تاریخ رکھنے والا قومی وطن ہے۔ سندھ کو ٹکڑے کرنے اور نئے صوبے بنانے کی سازش ملک دشمن عمل ہے، سندھ کا عوام ایسی سازش کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی ہزاروں سالہ تہذیب کا واحد گواہ دریائے سندھ ہے۔

کالا باغ ڈیم، بھاشا ڈیم اور 6 اسٹریٹجک نہری منصوبے سندھ کے پانی پر زبردستی قبضہ کرنے کی سازش ہیں۔ پیکا ایکٹ ضیائی اور ایوبی آمریت کا تسلسل ہے۔ اینٹی ٹیررازم ترمیمی ایکٹ کے ذریعے 6 ماہ کی حراست عوام سے فیئر ٹرائل کا بنیادی حق چھیننے کی کوشش ہے۔ یہ کالے قوانین آئین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ مائنز اینڈ منرلز بل صوبوں کے وسائل پر ڈاکہ اور 18ویں ترمیم کے خلاف سازش ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور ریاستی اداروں کی نااہلی کے باعث ڈاکوں کو جدید اسلحہ دیا گیا ہے، سندھ میں عوام غیر محفوظ ہے۔سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں نے کہا کہ سندھ کی زمینیں اور وسائل بیچنے کے لیے ایس آئی ایف سی کا ادارہ بھی پیپلز پارٹی کی حمایت سے بنایا گیا ہے۔ عدالتیں جو 26 ویں آئینی ترمیم کے باعث پہلے ہی مفلوج ہیں، انہیں مکمل طور پر حکومتی دربار بنانے کے لئے 27 ویں ترمیم لائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کے پاس اب پرامن جدوجہد کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، عوام کے ہر طبقے کو عوامی جدوجہد کے میدان میں آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت کی بدترین فاشسٹ حکمرانی قائم ہے، بورڈ آف انویسٹمنٹ ترمیمی ایکٹ 2023 اور 27 ویں ترمیم ملک کے وجود پر حملہ ہے۔ سندھ میں جاگیر داری نظام کو مضبوط کرکے عورتوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، کاروکاری کا کاروبار حکومتی سرپرستی میں جاری ہے۔