حماد اظہر کا این اے 129 کے پولنگ سٹیشنز پر پولیس کے قبضے اور عمارتوں کو سیل کرنے کا الزام

آر او آفس این اے 129 کو جانے والے تمام راستے بند کردئیے گئے، کسی کو بھی آر او آفس جانے کی اجازت نہیں؛ پی ٹی آئی رہنماء کا بیان

Sajid Ali ساجد علی اتوار 23 نومبر 2025 19:03

حماد اظہر کا این اے 129 کے پولنگ سٹیشنز پر پولیس کے قبضے اور عمارتوں کو ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 نومبر2025ء) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء حماد اظہر نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 129 کے پولنگ سٹیشنز پر پولیس کے قبضے اور عمارتوں کو سیل کرنے کا الزام عائد کردیا۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عمارتوں کو سیل کرنے کے بعد ہمارے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا گیا اور پولیس پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کر رہی ہے، ایم پی اے فرخ جاوید مون نے پولیس کے پولنگ سٹیشنز پر قبضے کے بارے میں بتایا جہاں سے رزلٹ دیئے بغیر پولیس کے ہمراہ پریذائیڈنگ افسر چلے گئے، لیڈیز پولنگ سٹیشن 304 اور 307 کا بھی رزلٹ دئیے بغیر پریذائڈنگ افسر پولیس کے ہمراہ چلا گیا، آر او آفس این اے 129 کو جانے والے تمام راستے بند کر دئیے گئے ہیں، کسی کو بھی آر او آفس جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے، جن میں قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7 حلقے شامل ہیں، پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا، لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، سرگودھا، میانوالی، مظفرگڑھ اور ہری پور میں ووٹنگ ہوئی، الیکشن کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخاب کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، 2ہزار 792 پولنگ سٹیشنز میں سے 408 انتہائی حساس اور 1ہزار 32 حساس قرار دیئے گئے جہاں دو ہزار سے زائد اہلکار سکیورٹی کیلئے تعینات تھے۔

بتایا گیا ہے کہ این اے 18 ہری پور میں ضمنی انتخاب میں 9 امیدوار میدان میں تھے، پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہرناز، ن لیگ کے بابر نواز خان اور پیپلز پارٹی کی ارم فاطمہ کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے، یہ نشست پی ٹی آئی کےعمر ایوب کی 9 مئی کیس میں سزا اور نااہلی کے بعد خالی ہوئی، اسی طرح این اے96 فیصل آباد کے انتخابی معرکے میں مسلم لیگ، پیپلزپارٹی اور آزاد امیدواروں سمیت 16 امیدوار مدمقابل ہیں، حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 72 ہزار 133 جبکہ خواتین ووٹرز2 لاکھ 72 ہزار 991 ہے جب کہ این اے 104 میں ن لیگ کے راجہ دانیال اور آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید سمیت پانچ امیدوار میدان میں ہیں، قومی اسمبلی کے حلقے میں کل 5 لاکھ 57 ہزار 637 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

علاوہ ازیں لاہور سے این اے 129قومی اسمبلی کی نشست پر مسلم لیگ ن کے حافظ محمد نعمان، آزاد امیدوار بجاش خان نیازی اور ارسلان احمد کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، حلقے میں مجموعی طور پر 3 سو 34 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گے ہیں جبکہ 70 پولنگ سٹیشنز مرد و خواتین کے مشترکہ ہوں گے، این اے 129 کی نشست میاں اظہر کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی جب کہ این اے 143 پنجاب کے شہر ساہیوال کا تیسرا بڑا حلقہ ہے اِس میں بھی مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ے، حلقے میں رجسٹر ووٹرز کی تعداد 5لاکھ 84ہزار 698 ہے، اسی طرح این اے 185 میں مسلم لیگ ن کے مقابلے میں پیپلز پارٹی نے اپنا امیدوار میدان میں اُتارا ہے اس حلقے میں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور جےیوآئی کے امیدواروں کے درمیان زبردست مقابلہ متوقع ہے۔