Live Updates

امہ کو درپیش مسائل کو اجاگر کرکے ان کوحل کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے ‘ حافظ نعیم الرحمن

اسلامی ممالک کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کا حل پیش کرنے کے لئے پاکستان میں دفتر کھولنے کو تیار ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا لاہور میں ’’ عالمی گول میز کانفرنس‘‘ کے افتتاحی سیشن سے خطاب امریکہ اور یورپ تنزلی کی طرف جارہا ہے ،جس کا ثبوت یہ ہے لندن کے بعد نیویارک میں بھی مسلم میئر کامیاب ہوا‘ مشاہد حسین سید دنیا میں پاکستان ،ملائشیا ،انڈو نیشیا ،ترکیہ ،ایران سعودی عرب کی اہمیت بڑھ رہی ہے،پاکستان کا فلسطین کے ساتھ تعلق بہت گہرا ہے

پیر 24 نومبر 2025 21:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 نومبر2025ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ دنیا تبدیل ہورہی ہے امت مسلمہ کو بھی بدلتے حالات کے مطابق اپنا لائحہ عمل بناناہوگا۔ امت کا جسم زخمی اور روح گھائل ہوچکی ہے ۔ عالم اسلام کو اس وقت فلسطین ،کشمیر ،روہنگیا اور سوڈان سمیت بے شمار مسائل کا سامنا ہے ۔ان مسائل کو حل کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے ۔

فلسطین ورلڈ آرڈر کی مثال بن چکا ہے ،کشمیر میں بھارت مسلمانوں کی نسل کشی کررہا ہے اور روہنگیا مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام کیا جارہا ہے ۔مقبوضہ مسلم علاقوں کو آزاد کرانا اور مسلمانوں کو ظلم وجبر سے نجات دلانے کے لئے عالم اسلام کو متحد ہونا پڑے گا۔جماعت اسلامی تمام اسلامی ممالک کے مسائل کو اجاگر کرکے ان کا حل پیش کرنے کے لئے پاکستان میں دفتر کھولنے کے لئے تیار ہے ۔

(جاری ہے)

پاکستان کی چھتری کے نیچے دنیا کے مسائل کے حل کے لئے کوئی لائحہ عمل دینا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں عالمی گول میز کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کانفرنس سے سابق وفاقی وزیر و عالمی امور کے ماہر مشاہد حسین سید ، ریورینڈ فرینک چیکین، یورپی پارلیمان کے رکن مسٹر برہان کیاترک ،فلسطین سے مسٹر سمیع الآرائیں ،یوکے سے ڈاکٹر انس التکریتی ،امریکہ سے معروف کشمیری راہنما ڈاکٹر غلام نبی فائی ، ڈاکٹر شائون کنگ ،چیئرمین نیو ویلفیئر پارٹی ترکیہ مسٹر فاتح اربکان،برازیل سے مسٹر تھیگو اویلا،،ملائیشین پارلیمان کے رکن دیتو حجاح ممتاز،یوکے سے مسٹرلیوران بوتھ سمیت معروف عالمی رہنمائوں نے خطاب کیا ۔

عالمی گول میز کانفرنس میں 40سے زائد ممالک کے مندوبین شریک ہیں۔کانفرنس میں حریت کانفرنس کے کنوئنیر غلام نبی فائی، ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے نذیر قریشی ، مزمل ایوب ٹھاکر، سابق امیر کشمیر جماعت عبدالرشید ترابی، نائب قیمہ ثمینہ سعید اور دیگر راہنما بھی شریک ہوئے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج جمع ہونے کا ہمارا مقصد انسانیت کو درپیش مسائل سے آگاہ کرنا ہے ۔

دنیا میں چلنے والا نظام عام انسانوں کو ریلیف دینے میں ناکام ہوگیا ہے ۔عالمی سطح پرسیاسی و معاشی حالات عام آدمی کے لئے ساز گار نہیں ہیں ۔کارپوریٹ سیکٹر صرف طاقتور کے ہاتھ میں ہے ۔سیاست پر طاقتورمافیاز کا قبضہ ہے۔عالمی سامراج دنیاکے ہرملک خاص طور پر مسلم ممالک کی سیاست کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا ہے ۔ مسلم ممالک کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔

غزہ پر ہمارا موقف بڑا واضح ہے۔ہمیں دو ریاستی حل کے بجائے صرف ایک ریاست فلسطین کی بات کر نا چاہئے ،دوریاستی حل کا مطلب اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے ۔ہمار ا مطالبہ ہے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے مگراقوام متحدہ اور سلامتی کونسل معذور ہوچکی ہیں اورصرف طاقتوروں کے اشاروں پر چلتی ہے۔اقوام متحدہ نے آج تک کسی مسلم مسئلے کو حل نہیں کیا ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمیں اسلامی ممالک کے درمیان مسائل کے حل کیلئے ایک مکمل حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ عالمی طاقتوں کے جھوٹے پروپیگنڈہ کو ختم کرنے کیلئے اقدامات ہونے چاہئیں ۔اسلام ہر صورت میں سب کو مساوی حقوق دیتا ہے۔انسانیت کا تقدس عالمی نعرہ ہونا چاہئے ۔طاقتور قانون سے بالاتر نہیں ان کا احتساب ہونا چاہئے ،ان کو کسی قسم کا استثنیٰ نہیں ملنا چاہئے۔

نئی نسل کو تباہی سے بچانے کی ضرورت ہے۔یہ سوال اہم ہے کہ اسلامی تحریک کی کامیابی کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے ۔اسلامی ممالک کے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ پالیسی اپنانا ہوگی۔ بین الاقوامی امور کے ماہر مشاہد حسین سید نے کہا کہ امریکہ اور یورپ تنزلی کی طرف جارہا ہے ،جس کا ثبوت یہ ہے کہ لندن کے بعد نیویارک میں بھی مسلم میئر کامیاب ہوا۔معاشی و سیاسی طاقت مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہورہی ہے ۔

دنیا میں پاکستان ،ملائشیا ،انڈو نیشیا ،ترکیہ ،ایران سعودی عرب کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ غزہ میں اسرائلی درندگی کا حماس نے ڈٹ کر مقابلہ کیاجس کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا فلسطین کے ساتھ تعلق بہت گہرا ہے کیونکہ 1940میں قرار داد پاکستان کے ساتھ قرارداد فلسطین بھی منظور ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن فلسطین اور کشمیر سمیت عالم اسلام کے مسائل کو اجاگر اور ان کے حل کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دل میں امت کا درد ہے اور اس کے لئے ہر جگہ آواز بلند کرتے ہیں ۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات