سابق فوجی افسر فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا، اطلاق شروع
جمعرات 11 دسمبر 2025 16:22
(جاری ہے)
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے اپنے بیان میں کہا کہ طویل اور محنت طلب قانونی کارروائی کے بعد ملزم تمام الزامات میں قصور وار قرار پایا گیا۔
عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کا اطلاق 11 دسمبر 2025 سے شروع ہوگیا۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے، ملزم کو دفاع کے لیے وکیلوں کی ٹیم منتخب کرنے سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے، ملزم کے سیاسی عناصر کے ساتھ ملی بھگت، سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کے معاملات الگ سے دیکھے جا رہے ہیں۔یاد رہے کہ فیض حمید کو 12 اگست 2024 کو فوجی تحویل میں لیا گیا تھا، 12 اگست کو ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔ کارروائی سپریم کورٹ کی ہدایت پر نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملے پر شکایات کے بعد شروع کی گئی تھی۔29 نومبر 2022 کو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی، سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں فیض حمید کے خلاف ایک تفصیلی کورٹ آف انکوائری ہوئی۔ پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت فیض حمید کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی شروع کی گئی تھی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 12 اگست 2024ء کو پاکستان آرمی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ٹاپ سٹی کی کورٹ آف انکوائری شروع کی گئی، فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی کئی خلاف ورزیاں ثابت ہو چکی ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی گئی، انکوائری پاک فوج نے فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتہ لگانے کیلئے کی۔ یاد رہے کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق فیض حمید کا نام اس وقت منظر عام پر آیا جب ان پر حکومت، ٹی ایل پی معاہدہ کروانے کی بات سامنے آئی، 27 نومبر2017 کو حکومت پاکستان، تحریک لبیک کے درمیان معاہدے کے آخر میں بوساطت میجر جنرل فیض حمیدلکھا گیا تھا۔2018 کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے 2019 میں فیض حمید کو سربراہ آئی ایس آئی مقرر کیا، فیض حمید دو سال سے زائد عرصہ کے لیے سربراہ آئی ایس آئی رہے۔بعدازاں تحریک لبیک سے معاہدے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے فیصلے میں ایسے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا، فیض حمید پر سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے اپنے حلف کی پاسداری نہ کرنے کا الزام لگا، اسی دور میں سیاسی انتقام، گرفتاریوں، وفاداریوں کی تبدیلی کے الزامات سامنے آئے، سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی تقریروں میں فیض حمید پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے۔سابق فوجی افسر فیض حمید کے دور میں سیاسی مداخلت کے بھی الزامات سامنے آئے، کابل میں طالبان کی آمد کے 3 ہفتے بعد فیض حمید کی دورہ کابل میں کافی کپ کے ساتھ تصویر پر شدید تنقید ہوئی۔پی ٹی آئی دورِ حکومت میں فیض حمید پر پی ٹی آئی کے مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے کے الزامات لگے، پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں قانون سازی کیلئے اسمبلی اجلاسوں میں اراکین کی حاضری پوری کروانے کا بھی الزام لگا، فیض حمید پر بجٹ منظور کروانے میں بھی ملوث رہنے کا الزام لگا۔ 2017 اور 2018 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے بھی فیض حمید پر مداخلت کے الزامات لگائے۔مزید اہم خبریں
-
ترکیہ میں بچوں کو طویل سزائیں دینے کے قانون کی منظوری پر تشویش
-
لاکھوں نوجوانوں کو پہلی ملازمت کے حصول میں مشکل، عالمی ادارہ محنت
-
نوجوانوں کو آن لائن ہراسانی اور متعصب الگورتھم سے خطرہ
-
مقتول نوجوان میر رضا کا نجی ٹی وی کو دیا گیا آخری انٹرویو سامنے آگیا
-
اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے
-
حکومت کا یوم آزادی پر پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان
-
میر رضا کیس: سوچیں! کیسے طاقتور قاتل ہوں گےکہ سندھ حکومت نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا
-
عدالت نے منشیات کیس میں گرفتار انمول پنکی کو 3 مقدمات میں بری کردیا
-
اعلیٰ عدلیہ کے بعد ہائیکورٹ ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بھی اضافہ، صدر مملکت نے سمری منظور کرلی
-
ربیع الاول کا چاند نظر نہیں آیا، یکم ربیع الاول کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کردیا گیا
-
لاہور اسلام آباد موٹروے پر مسافر بس اور ٹرکوں کی غیر معینہ مدت کیلئے انٹری بند کردی گئی
-
یہ نوجوانوں کو کاکروچ کہہ رہے ہیں، یہ کاکروچ نہیں اقبال کے شاہین ہیں
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.