پیپلزپارٹی اور ن لیگ کب تک اکٹھی رہ سکتی ہیں یہ تو ان کو پتا ہے، لیکن دونوں گرتی پڑتی چل رہی ہیں

بلدیاتی الیکشن آئین کا تقاضا ہے حکومت کو کرانا ہی ہوں گے، موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے نہ آئے، جے یوآئی ضرورسامنے آئے گی، مولانا فضل الرحمان

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 13 جنوری 2026 20:55

پیپلزپارٹی اور ن لیگ کب تک اکٹھی رہ سکتی ہیں یہ تو ان کو پتا ہے، لیکن ..
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 13 جنوری 2026ء) جے یوآئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کب تک اکٹھی رہ سکتی ہیں یہ ان کوپتا ہے، لیکن دونوں گرتی پڑتی چل رہی ہیں،بلدیاتی الیکشن آئین کا تقاضا ہے حکومت کو کرانا ہی ہوں گے۔انہوں نے سرگودھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پروٹوکول نہیں ملا، سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کج شہر دے لوگ وی ظالم سن ، کج سانوں مرن دا شوق وی سی۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن آئین کا تقاضا ہے حکومت کو کسی بھی وقت کرانا ہی ہوں گے، جماعت اسلامی کے عوامی ریفرنڈم کے حوالے سے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، جماعت اسلامی کا کیا فلسفہ ہے ہمیں نہیں معلوم، موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے نہ آئے ، جے یوآئی ضرور آئے گی، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کب تک اکٹھی رہ سکتی ہیں یہ ان سے ہی پوچھا جائے۔

(جاری ہے)

دونوں جماعتیں بس گرتی پڑتی اکٹھے چل رہی ہیں۔
ایکس جےیوآئی ف کے مطابق سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں اب طاقت کا نظام رائج ہے اور جمہوریت محض ایک نام رہ گئی ہے۔ انتخابات ایک ڈھونگ بن چکے ہیں، جن کے نتائج چند لوگ ایک دفتر میں بیٹھ کر تیار کرتے ہیں۔ آج ملک میں جو حکومتیں قائم ہیں، ان میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں منتخب نہیں۔

نہ وفاق، نہ پنجاب، نہ خیبرپختونخوا، نہ سندھ اور نہ بلوچستان کی حکومت منتخب ہے، مگر اس پر کسی کو شرم یا احساس تک نہیں۔ ہم چونکہ اس صورتحال کے شکار ہیں، اس لیے جو بات کر رہے ہیں وہ ہمارا آنکھوں دیکھا حال ہے، ہم اس کے وکٹم ہیں۔ دنیا میں نظام بدل رہے ہیں، اب ہمیں سوچنا ہوگا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کو کس رخ پر لے جانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کے پاس شریعتِ اسلامیہ اور قرآن و سنت کے علاوہ کوئی دوسرا نظام نہیں جو حقیقی انصاف فراہم کر سکے۔

جمہوریت کے نام پر عوام کو بہلایا گیا، حالانکہ ہمارے اکابر نے آئین میں یہ طے کروایا تھا کہ قانون سازی قرآن و سنت کے تابع ہوگی، مگر آج آئین کی بھی پاسداری نہیں ہو رہی۔ اسلامی نظریاتی کونسل 1973 سے موجود ہے، مگر آج تک اس کی سفارشات پر قانون سازی نہیں ہوئی۔ چھبیسویں ترمیم میں یہ طے ہوا تھا کہ ان سفارشات پر ایوان میں بحث ہوگی، لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود ایک بھی سفارش پیش نہیں کی گئی۔

پھر ستائیسویں ترمیم کے ذریعے وہ سب کچھ ختم کر دیا گیا جو ہم نے حاصل کیا تھا۔ یہ اکثریت حقیقی نہیں، بلکہ جبری اکثریت ہے۔ اب واضح ہو چکا ہے کہ یہ جنگ نظریات کی نہیں، بلکہ اتھارٹی کی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے، سیول بالادستی اور پارلیمنٹ کی بالادستی صرف نام رہ گئے ہیں۔ اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے، قانون پاس ہوگا اسلام آباد میں۔ یہی وہ تبدیلیاں ہیں جو دنیا میں آ رہی ہیں، اور ان کے نقوش آج آپ اپنے ملک میں صاف دیکھ رہے ہیں۔