گ*چارسدہ ،اے این پی کا تاریخی پاور شو، تیراہ میں آپریشن فوری بند کرنے کا مطالبہ

ٴْتیراہ میں آپریشن اور عوام کو زبردستی بے گھر کرنے کے عمل کو مسترد کرتے ہیں، ایمل ولی خان eفلسطین کا مسئلہ فلسطینی عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے مغرب کی خوشنودی کی خاطر پاکستان پہلے ہی خود کو اور اپنے پڑوسی ممالک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا چکا ہے 9اے این پی ووٹر کی عمر 18 سے 25 سال کرنے کی مبینہ تجویز کی شدید مخالفت کرتی ہے ،اگر 18 سال کا نوجوان ٹیکس ادا کر سکتا ہے تو اس سے ووٹ کا حق کوئی نہیں چھین سکتا Eپختون قوم کا ضامن ایک مستحکم اور مضبوط پاکستان ہے ریاست توپ اور ٹینک کی بجائے تعلیم، ترقی اور امن کو ترجیح دے ،مرکزی صدر اے این پی کا چارسدہ میں جلسہ عام سے خطاب

جمعہ 23 جنوری 2026 22:05

ک"چارسدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 جنوری2026ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے تیراہ میں جاری فوجی آپریشن اور وہاں کے عوام کو زبردستی بے گھر کرنے کے عمل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تیراہ میں آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے اور زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیے گئے عوام کو فی الفور ان کے آبائی علاقوں میں آباد کیا جائے۔

موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں کے باعث پختون قوم بے یار و مددگار اور لاوارث نظر آ رہی ہے، جبکہ تیراہ کے حالات اس امر کی واضح عکاسی کر رہے ہیں کہ حکمرانوں کو پختونوں سے کوئی سروکار نہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے زیرِ اہتمام فخرِ افغان باچا خان کی 38ویں اور قائدِ جمہوریت خان عبدالولی خان کی 20ویں برسی کے موقع پر چارسدہ میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ پختون قوم کا مسئلہ مسلط کی گئی دہشتگردی ہے اور فوجی آپریشن اس کا حل نہیں۔

(جاری ہے)

جن عناصر کو آج فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کہا جا رہا ہے، کل تک انہیں ریاستی پالیسی کے تحت مجاہدین قرار دیا جاتا رہا۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی جڑوں کی نشاندہی کی جائے۔ یہ ممکن نہیں کہ ایک دور میں ان عناصر کو اثاثہ کہا جائے، کشمیر اور افغانستان میں جہاد کے نام پر فساد کرایا جائے اور پھر دوسرے دور میں انہیں دشمن اور ریاست کے لیے خطرہ قرار دے دیا جائے۔

دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ریاست کو حتمی اور واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ عناصر اثاثے ہیں یا دہشتگرد، کیونکہ ہر دس سال بعد پالیسی تبدیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا کہ جرنیلوں اور سیاستدانوں سمیت جن لوگوں نے دہشتگردی کو مذہب کا نام دیا، اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جو زندہ ہیں انہیں سخت ترین سزائیں دی جائیں اور جو مر چکے ہیں، تاریخ سے ان کے نام مسخ کیے جائیں۔

جب تک ریاست یہ سخت فیصلے نہیں کرتی، دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ جنرل باجوہ، فیض حمید، عمران خان اور عارف علوی نے دہشتگردوں کی آبادکاری کی وکالت کی اور 102 خطرناک دہشتگردوں کی رہائی ممکن بنائی۔ یہی لوگ پختون قوم کی تباہی کے ذمہ دار اور مجرم ہیں، اور ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردوں کے ان سہولتکاروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔

خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت خود نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، لہٰذا سب سے پہلے اندرونی مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان ہر صورت غزہ بورڈ آف پیس سے کنارہ کرے اور فلسطین کا مسئلہ فلسطینی عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کی خوشنودی کی خاطر پاکستان پہلے ہی خود کو اور اپنے پڑوسی ممالک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج دہشتگردی کو جواز بنا کر پختونوں پر افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے بند کیے گئے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ تجارت ممکن ہے مگر افغانستان کے ساتھ نہیں، جو ناقابلِ قبول ہے۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر عام لوگوں اور تجارت کے لیے بند ہے، مگر ہر واقعے کی ذمہ داری افغانستان پر ڈال دی جاتی ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ بارڈر صرف عام عوام کے لیے بند ہے جبکہ دہشتگردوں کے لیے کھلا ہے۔

انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ باجوڑ سے لے کر چمن تک تمام تجارتی راستے فوری طور پر کھولے جائیں۔ اے این پی دہشتگردی کی مخالف ہے اور دہشتگردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ تجارت کے فروغ کی حامی ہے۔ موجودہ ملکی حالات پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ بدقسمتی سے جو نظام اس وقت چل رہا ہے، اس میں اسمبلی ممبران بھی ریاست نے خود منتخب کیے ہیں۔

کروڑوں روپے لے کر غیر سنجیدہ اور نااہل افراد کو اسمبلیوں میں بٹھایا گیا۔ اپنی مرضی کے ہائبرڈ رجیم کے باوجود فیصلے چند مخصوص افراد کر رہے ہیں۔ ریاست خود تسلیم کر چکی ہے کہ باجوہ اور فیض کے فیصلے غلط تھے، اور جو عمل کل غلط تھا وہ آج بھی غلط ہے۔ انہوں نے موجودہ حکمرانوں کو بزدل ترین حکمران قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے اس سے پہلے ایسے حکمران نہیں دیکھے۔

اے این پی ووٹر کی عمر 18 سے 25 سال کرنے کی مبینہ تجویز کی شدید مخالفت کرتی ہے۔ اے این پی اس تجویز کے خلاف چٹان کی طرح کھڑی ہوگی اور نوجوانوں کو کبھی ووٹ کے حق سے محروم نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر 18 سال کا نوجوان ٹیکس ادا کر سکتا ہے تو اس سے ووٹ کا حق کوئی نہیں چھین سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم کا ضامن ایک مستحکم اور مضبوط پاکستان ہے۔

مطالبہ کیا کہ توپ اور ٹینک کی بجائے تعلیم، ترقی اور امن کو ترجیح دی جائے۔ پاکستان کے مسائل کا حل کسی ونڈر بوائے یا ہائبرڈ رجیم میں نہیں بلکہ ایک مضبوط جمہوری پارلیمانی نظام میں ہے جس میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوں۔ آئین کو بالادست بنایا جائے اور عوام کو اختیار دیا جائے تو مسائل خود بخود حل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی امن کی پیروکار ہے اور آج بھی دہشت اور وحشت کے خلاف میدان میں کھڑی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی بلدیاتی انتخابات کے لیے پوری طرح تیار ہے اور ہر قیمت پر اپنے ووٹ کی حفاظت کرے گی۔ عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ عوام کی حقِ حکمرانی اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی۔ وقت آئے گا جب طاقت کا محور بندوق نہیں بلکہ عوام ہوں گی