گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی کور کمیٹی نے گل پلازہ کے افسوسناک واقعہ کا زمہ دار سندھ حکومت کو قراردیدیا

منگل 27 جنوری 2026 22:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جنوری2026ء) گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس(جی ڈی اے )کی کور کمیٹی نے گل پلازہ کے افسوسناک واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحہ کا زمہ دار سندھ حکومت کو قراردیا ۔پیر صاحب پگارا نے کہا کہ اس سانحے کی تفصیلات جان کر دل خون کے آنسو روتا ہے سندھ حکومت کی نااہلی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ نہ وہ وقت پر آگ بجھانے کا انتظام کرسکی اور نہ ہی مارکیٹ کے دروازوں کو توڑ کر اندر پھنسے لوگوں کو نکال سکی، اتنے بڑے سانحہ پر حکومتی اہلکار غائب رہے۔

اجلاس میں متاثرہ دکانداروں، جاں بحق اور زخمی افراد کے اہل خانہ کو فوری اور مناسب معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ جی ڈی اے نے اجلاس میں دو ہزار چوبیس کے جعلی انتخابات میں ریکارڈ دھاندلی کے خلاف آٹھ فروری کو ضلعی ہیڈ کوارٹرز کے پریس کلبوں پر بھرپور احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ملک کی موجودہ آئینی، سیاسی و معاشی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اس بات کا اظہار پیر صاحب پاگارہ کے زیر صدارت راجا ہاس کراچی میں منعقدہ جی ڈی اے کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ۔ اجلاس میں صدرالدین شاہ راشدی، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، غلام مرتضی جتوئی، ڈاکٹر ارباب غلام رحیم، لیاقت علی جتوئی، سید مظفر حسین شاہ، ڈاکٹر صفدر عباسی، سردار عبدالرحیم ، ڈاکٹر زوالفقار مرزا، میڈم سائرہ بانو، مظہر راہوجو، بیرسٹر حسنین مرزا اور حسام مرزا سمیت دیگر شریک ہوئے، اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی، آئینی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اجلاس میں متفقہ طور پر متعدد اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات پاکستان کی تاریخ کے متنازع ترین انتخابات تھے، جن میں ریاستی دھاندلی، سرکاری مشینری کے بے جا استعمال اور الیکشن کمیشن کے جانبدارانہ کردار کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو بری طرح مسخ کیا گیا۔ کور کمیٹی نے ان انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت اور اسمبلیوں کو عوام کی حقیقی نمائندگی سے محروم قرار دیا۔ کور کمیٹی نے جامشورو میں پیر صاحب پاگارا کی صدارت میں منعقدہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے جلسہ عام میں عوام کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کی مکمل توثیق کرتے ہوئے دھاندلی زدہ انتخابات اور موجودہ اسمبلیوں کو ایک بارر پھر مسترد کر دیا۔