جلد اسٹیل ملز کے انجنز اور گاڑیوں کا آکشن کر دیا جائے گا‘ذیلی کمیٹی برائے صنعت وپیداوارکو ایڈیشنل سیکرٹری کی بریفنگ

بدھ 28 جنوری 2026 22:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 جنوری2026ء) ذیلی کمیٹی برائے صنعت و پیداوارکو بتایا گیا ہے کہ حکومت نے اسٹیل ملز کے انجنز اور گاڑیوں کا آکشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جلد اسٹیل ملز کے انجنز اور گاڑیوں کا آکشن کر دیا جائے گا۔رکن کمیٹی عبدالحکیم بلوچ نے کہا کہ یہاں لاکھوں نہیں بلکہ اربوں روپے کی چوری ہوئی ہے،آپ صرف ملازمین کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

ایڈیشنل سیکرٹری صنعت نے کہا کہ آرمی کے بندے بھی سٹیل مل سے چوری میں پکڑے گئے ہیں جن کا کورٹ مارشل ہوا، کمیٹی نے اسٹیل ملز میں دو بچوں کے قتل کی تفصیلات اور اسٹیل ملزسے نکالے گئے ملازمین کی فہرست طلب کر لی۔مہرین رزاق بھٹونے کہا کہ آپ لوگ خود اداروں کو تباہ کرتے ہیں پھر ان کی نجکاری کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

عبدالحکیم بلوچ نے تجویز دی کہ ہر گھر کا الگ بجلی کا میٹر ہی اسٹیل ملز کے رہائشیوں کے مسئلے حل ہے۔

ناز بلوچ کی زیر صدارت ذیلی کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس ہوا۔وزارت صنعت و پیداوار نے سٹیل مل میں چوری کی وارداتوں پر بریفنگ دی اور بتایا کہ حکومت نے اسٹیل ملز کے انجنز اور گاڑیوں کا آکشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جلد اسٹیل ملز کے انجنز اور گاڑیوں کا آکشن کر دیا جائے گا۔ ایڈیشنل سیکرٹری صنعت و پیداوارنے بتایا کہ اسٹیل ملز کے مین گیٹ پر آج سیکیورٹی کیمرے نصب کردیں گے۔

رکن کمیٹی عبدالحکیم بلوچ نے کہا کہ یہاں لاکھوں نہیں بلکہ اربوں روپے کی چوری ہوئی ہے،آپ صرف ملازمین کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، ملازمین کی بجلی اور پانی بند کردیا گیا ہے، ملازمین کو مہنگی بجلی اور گیس دی جا رہی ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری صنعت و پیداوارنے بتایا کہ قابضین کو ہم کہہ رہے ہیں کہ اپنے بقایا جات لے کر گھر چلے جائیں۔عبدالحکیم بلوچ نے کہا کہ کمیٹی کا ایک اجلاس کراچی میں بلایا جائے۔

مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ سٹیل ملز بند ہو گئی، کتنی بدقسمتی کی بات ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری صنعت و پیداوارنے کہا کہ 100 بندہ ملٹری کا سٹیل ملز میں موجود ہے۔ناز بلوچ نے کہا کہ چوری کے واقعات میں کتنے چوکیداروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ایڈیشنل سیکرٹری صنعت و پیداوارنے کہا کہ ہم نے ایف آئی آر کٹوائی سندھ حکومت کے نمائندے نے ان کے حق میں بیان دیا۔

سٹیل ملز حکام نے کہا کہ پراسیکیوٹر اگر ہمارے کیسوں کی مناسب پیروی نہ کرے تو کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ایس ایس پی ملیر کراچی نے کہا کہ سٹیل ملز حکام نے ایف آئی آر کٹوائی اور عدالت میں جا کر کہا کہ چوری ہوئی ہی نہیں، کئی ایسے مقدمات ہیں جن میں ایف آئی آر کٹوائی اور پھر جا کر عدالت میں واقعے کا انکار کر دیا گیا،کبھی سٹیل ملز کا لیگل ونگ پولیس کے پاس یا عدالت میں نہیں آیا، 23 پولیس اہلکار سٹیل ملز سے چوری میں ملوث تھے، 6 اہلکاروں کو سروس سے نکال دیا گیا ہے باقی اہلکاروں کی اپیل چل رہی ہے۔

ایڈیشنل سیکرٹری صنعت و پیداوارنے بتایا کہ چوری کی کارروائیوں میں پولیس اہلکار اور کباڑیے ملوث ہیں،3 کروڑ روپے کی ہماری ماہانہ بجلی چوری ہوتی ہے، پولیس اہلکار سٹیل ملز میں قبضے کرکے بیٹھے ہیں اور کنڈے لگا کر بجلی چوری کرتے ہیں،ہم نے آئی جی اور چیف سیکرٹری سندھ کو خطوط لکھے ہیں،آرمی کے بندے بھی سٹیل مل سے چوری میں پکڑے گئے ہیں جن کا کورٹ مارشل ہوا،ہمارے پاس اثاثہ جات کی تفصیل ہے، سکریپ کی تفصیلات نہیں۔

چیئر پرسن کمیٹی نے کہا کہ سکریپ ہی تو چوری ہوتا ہے جس کی تفصیلات آپ کو پتہ نہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری نے کہا کہ ہم آپ کو وہاں لے جا کر ہر چیز دکھا دیتے ہیں۔مہرین رزاق بھٹونے کہا کہ وہاں جا کر جائزے لینا ہماری ذمہ داری نہیں ہے، جب سٹیل ملز کو بند کر دیا تو وہاں کے ہر تالے اور دروازے کی انٹری ہونی چاہئے تھی۔نازبلوچ نے کہا کہ سٹیل ملز میں اربوں روپے کی چوری ہو چکی کون ذمہ دار ہے، اگر آپ کے پاس چوری روکنے کا اختیار نہیں تو کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں۔

ایڈیشنل سیکرٹری صنعت و پیداوارنے بتایا کہ جن چیزوں کی چوری کا خطرہ ہے ان کا آکشن ہوگا، 11 کے وی کی بجلی کی تاریں تک چوری ہوتی ہیں۔کمیٹی نے اسٹیل ملز میں دو بچوں کے قتل کی تفصیلات طلب کر لیں۔مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ میں کہیں بھی سٹیل مل کے اثاثوں کی تفصیلات نہیں ہیں، ہم نے جو آڈٹ رپورٹ مانگی وہ کیوں نہیں دی گئی۔وزارت صنعت و پیداوار کی طرف سے اسٹیل ملز کی صورتحال پر کمیٹی کو بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ 2010 میں اسٹیل ملز کے 30 ہزار ملازمین تھے، 2010 میں میں اسٹیل مل 5 ہزار ملازمین کے ساتھ کام کر سکتی تھی،ڈیلی ویجز وکنٹریکٹ ملازمین کا جولائی 2024 سیکنٹریکٹ ختم کیا،ملازمین میں سے 85 فیصد گھوسٹ ملازمین تھے۔

قائمہ کمیٹی نے اسٹیل ملزسے نکالے گئے ملازمین کی فہرست طلب کر لی۔سٹیل مل بند ہونے کے باوجود ساڑھے 27 کروڑ کا بل آیا،وزارت صنعت و پیداوار کی طرف سے بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ حکومت نے اڑھائی کروڑ روپے کا بجلی کا بل ادا کیا،سٹیل مل کے اسپتال کو بحال کرنے لیے ٹینڈر جاری کیا جا رہا،ہماری 1 ہزار 777 ایکڑ زمین سندھ حکومت نے لے کر آگے الاٹ کردی۔

رکن کمیٹی عبدالحکیم بلوچ نے کہا کہ میں بھی اس کا متاثر ہوں،میرے والد کی 55 ایکڑ زمین سٹیل ملز نے لی،اب جب سٹیل مل بند ہوئی تو زمین مالکان کو واپس کرنا ہے۔ناز بلوچ نے کہا کہ مل کے رہائشیوں کے پاس سکول پانی ہسپتال اور نہ گیس ہے، وہاں انسان رہتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی سہولیات نہیں۔وزارت صنعت نے کہا کہ سٹیل مل کے 3 سکولوں کو نجی این جی او کو دیا جا رہا ہے۔

کے الیکٹرک کا اسٹیل مل کے رہائشیوں سے کمرشل ریٹ وصولی کا معاملہ زیر بحث آیا اورکے الیکٹرک حکام کی ذیلی کمیٹی کو بجلی قیمت بارے بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ سٹیل ملز کے مسائل کا حل کے الیکٹرک کے پاس نہیں،اسٹیل ملز مسائل کا حل ریگولیٹر کے پاس ہے،کے الیکٹرک سٹیل ملز کا بجلی کا نظام لینے کو تیار ہے،اسٹیل مل کیلئے بجلی نظام پر اضافی خرچ ہو گا۔

وزارت صنعت و پیداوار نے بتایا کہ کے الیکٹرک نے اضافی خرچ کی مد میں ایک ارب روپے کا بنایا،کے الیکٹرک نیپرا سے اضافی اخراجات کی اجازت مانگ رہی، کے الیکٹرک کا اقدام اضافی خرچ صارفین سے بلوں میں لینے کیلئے ہے۔ہمارے پاس پیسے ہی نہیں ہیں کہاں سے دیں۔ناز بلوچ نے کہا کہ سٹیل ملز کے رہائشیوں سے بجلی کے کمرشل ریٹ لگانا زیادتی ہے۔کے الیکٹرک حکام نے بتایا کہ کے الیکٹرک مین میٹر تک کا انفراسٹرکچر لایا ہے، کے الیکٹرک کے رہائشیوں کے میٹر ریگولیٹر کے مطابق نہیں ہے، کمپنی نے سٹیل ملز کے اندر بجلی کا نیٹ ورک نہیں بنایا۔

پاور ڈویژن کے مطابق مل بند پڑی ہے اور صارفین کو کمرشل ریٹ مل رہا ہے، جو کمرشل میٹر لگا ہے اسے ڈومیسٹک میٹر سے تبدیل کرنا ہو گا۔کے الیکٹرک کے مطابق میٹر تبدیلی کیلئے سسٹم کو کے ای کے مطابق اپ گریڈ کرنا ہو گا۔اسٹیل مل حکام نے بتایا کہ حکومت پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے کوشش کر رہی،روس سٹیل مل کی بحالی کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے،اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے سرمایہ کاروں سے بات چیت جاری ہے،سرمایہ کاری کا معاملہ حل ہو گا بہت جلد کام شروع ہو جائے۔مہرین رزاق بھٹونے کہا کہ آپ لوگ خود اداروں کو تباہ کرتے ہیں پھر ان کی نجکاری کرتے ہیں۔عبدالحکیم بلوچ نے تجویز دی کہ ہر گھر کا الگ بجلی کا میٹر ہی اسٹیل ملز کے رہائشیوں کے مسئلے حل ہے۔