بلوچستان میں مخلوط حکومت میں مسلم لیگ ہونے کے باوجود پارٹی کارکنوں کے جائز مسائل حل نہیں ہورہے ہیں،عبدالقدیر بلوچ

اتوار 8 فروری 2026 18:20

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 فروری2026ء) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما و رکن مرکزی کونسل عبدالقدیر بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مخلوط حکومت میں مسلم لیگ ہونے کے باوجود پارٹی کارکنوں کے جائز مسائل حل نہیں ہورہے ہیں پارٹی قائد میاں محمد نواز شریف بلوچستان میں قربانی دینے والے کارکنوں کو نظرانداز کرنے کا نوٹس لیںاور صوبے میں پارٹی تنظیم کو فعال اور منظم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں عبدالقدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچ بلیٹ کو نظرانداز کیا جارہا ہے جس سے قربانی دینے والے پارٹی کارکنوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پارٹی کو فعال اورمنظم کرنے کیلئے آمریت کے دور میں پارٹی کارکنوں نے قربانیاں دیں اور جیل کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اب تعصب کی بنیاد پر بلوچ بلیٹ کے کارکنوں کو سی ڈبلیو ی میں شامل نہ کرنا ایک المیہ ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مکران ڈؤیژن کو ایک جانب خلیج فارس اور دوسری جانب بحیرہ عرب میںواقع ہونے کی وجہ سے نہ صرف بلوچستان کی سیاست بلکہ ملکی سطح پر بھی جیو پولیٹیکل حیثیت حاصل ہے بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو جیسے بین الاقوامی سیاسی دان جب بھی الیکشن میں حصہ لیتے تھے توہ مکران ڈویژن سے حصہ لیتے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی قائد میاں محمد نواز شریف نے اپنے دوراقتدار میں گوادر ، پسنی ، کیلئے اربوں روپے کے پروجیکٹ دیئے جو ہمارے لئے اعزاز کی بات تھی۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی قائد میاں محمد نواز شریف بلوچ بیلٹ کو نظرانداز کرنے کا نوٹس لیں اورپارٹی کارکنوں میں پائی جانے والی مایوسی کے خاتمے کیلئے اپنا کردارادا کریں اورصوبے میں پارٹی کی صوبائی کابینہ کی فعالیت کیلئے اقدامات اٹھائیں۔