موجودہ حالات میں علماء و مشائخ کا اتحاد ناگزیر ہو چکا ہے، صوفی ارشدکاظمی

بدھ 11 فروری 2026 17:05

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 فروری2026ء) تحریک اہلسنّت پاکستان صوبہ سندھ کے صدر پیر طریقت صوفی مفتی سید ارشد علی شاہ کاظمی القادری نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اہلسنّت و جماعت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علماء و مشائخ کا اتحاد ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر علماء و مشائخ ایک مضبوط اور مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو نہ صرف دینی و ملی مسائل کا مؤثر حل نکالا جا سکتا ہے بلکہ معاشرے میں مثبت اور تعمیری تبدیلی بھی لائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے سابق وفاقی وزیرسید حامد سعید کاظمی اور پیر سید ارشد سعید کاظمی سے تحریک اہلسنّت پاکستان کے مرکزی تاحیات چیئرمین پیر قاضی فیض رسول حیدر رضوی کی ملاقات کو خوش آئند اور نہایت اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی ملاقاتیں اتحاد و اتفاق کی جانب عملی قدم ہیں۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ قیادت کے درمیان رابطوں کا فروغ اس بات کی علامت ہے کہ اہلسنّت و جماعت کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں اور تمام طبقات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا جا رہا ہے۔

تحریک اہلسنّت پاکستان کراچی کے چیئرمین مفتی محمدعابد حسین مہروی ، صدر علامہ محمدحفیظ اللہ ہادیہ،ضلعی صدر صوفی جمال الدین قادری ودیگر کے ہمراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیر طریقت صوفی مفتی سید ارشد علی شاہ کاظمی القادری نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ علماء و مشائخ باہمی اختلافات، ذاتی رنجشوں اور گروہی تقسیم سے بالاتر ہو کر وسیع تر دینی مفاد میں متحد ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اتحاد صرف بیانات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ایک ایسا مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جائے جو ملک بھر میں اہلسنّت و جماعت کے حقوق کے تحفظ، دینی تشخص کے استحکام اور نوجوان نسل کی درست رہنمائی میں معاون ثابت ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ علماء و مشائخ کی ذمہ داری ہے کہ وہ منبر و محراب کے ذریعے امت میں اتفاق و یگانگت کا پیغام عام کریں اور انتشار کی فضا کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب قیادت ایک صفحے پر ہوگی تو کارکنان اور عوام میں بھی یکجہتی کا جذبہ فروغ پائے گا، جس سے تنظیمی و دینی قوت میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحریک اہلسنّت پاکستان کی قیادت ملک بھر میں علماء و مشائخ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں مزید مشاورتی نشستوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ایک مضبوط، فعال اور متحد قیادت کے ذریعے اہلسنّت و جماعت کی بقاء، استحکام اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔