آسام ، بی جے پی حکومت نے سابق بھارتی صدر فخرالدین علی احمد کا نام بارپیٹا میڈیکل کالج سے ہٹا دیا

جمعہ 13 مارچ 2026 12:16

گوہاٹی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 مارچ2026ء) بھارتی ریاست آسام میں بی جے پی حکومت نے مسلم اکثریتی ضلع بارپیٹا کے ایک میڈیکل کالج سے سابق صدر فخرالدین علی احمد کا نام ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس اقدام سے اگلے ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل اپوزیشن کانگریس اور ”آ ل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ“( اے آئی یو ڈی ایف) میں غم وغصے کی لہر ڈوڈ گئی ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فخرالدین علی احمد میڈیکل کالج 2011 میں قائم کیا گیا تھا اور اس نے 2012 میں انڈرگریجویٹ کورسز شروع کیے تھے۔ اُس وقت آسام میں کانگریس کی حکومت تھی۔بی جے پی حکومت کے اس اقدام سے کانگریس، اے آئی یو ڈی ایف اور علاقے کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر ڈوڈ گئی ہے۔ اے آئی یو ڈی ایف کے بدرالدین اجمل نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے پورا مسلم معاشرہ دکھی ہے۔

(جاری ہے)

بی جے پی کو نام ہٹانے سے کیا فائدہ یا سکون ملا ہے؟کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے سابق صدر فخرالدین علی احمد کا نام ہٹانے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اس اقدام کو ایک ممتازآزادی پسند کی توہین قرار دیا۔انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ فخرالدین علی احمد نہ صرف ایک قابل احترام آزادی پسند تھے بلکہ وہ پہلے آسامی تھے جنہوں نے بھارت کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ نام ہٹانے کے بی جے پی حکومت کے فیصلے نے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے، اقدام سے آسام کےعوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے ۔ بی جے پی حکومت تقسیم کی سیاست کو آگے بڑھا رہی ہے۔فخر الدین علی احمد نے 1974 سے 1977 میں اپنی موت تک بھارت کے پانچویں صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔