کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر و پاکستان شاخ کا تعزیتی اجلاس

منگل 28 اپریل 2026 18:07

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 اپریل2026ء) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر و پاکستان شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی کی قیادت میں حریت کانفرنس کے دفتر میں تعزیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تحریک آزادی کشمیر کے ممتاز رہنما راجہ ولایت خان اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے علاقے کیرن سے تعلق رکھنے والے رہنما راجہ اظہار خان کے فرزند راجہ لیاقت علی خان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے شرکا نے مرحومین کی تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ وابستگی، ان کی خدمات اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ راجہ ولایت خان مرحوم اور راجہ لیاقت علی خان مرحوم ایسی باوقار شخصیات تھے جنہوں نے کشمیری عوام کے جائز حقوق کی جدوجہد میں اپنی بھرپور وابستگی اور عزم کا مظاہرہ کیا۔

(جاری ہے)

ان کی وفات تحریک آزادی کشمیر کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے جس کا خلا مدتوں محسوس کیا جاتا رہے گا۔

اجلاس میں جموں و کشمیر کے علاقے کیرن میں راجہ لیاقت علی خان کے جنازے کے موقع پر پیش آنے والے دلخراش اور رقعت آمیز مناظر پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ گزشتہ روز دنیا نے ایک ایسا دل دہلا دینے والا منظر دیکھا جس نے ہر صاحب ضمیر انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ایک جانب بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے علاقے کیرن میں نماز جنازہ ادا کی جا رہی تھی جبکہ دوسری جانب آزاد کشمیر کے علاقے کیرن میں ان کے بہن بھائی اور اہل خانہ اپنے پیارے کے آخری دیدار سے محروم، کرب اور بے بسی کی تصویر بنے کھڑے تھے۔

یہ منظر اس دیرینہ انسانی المیے کی عکاسی کرتا ہے جس سے کشمیری عوام دہائیوں سے گزر رہے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے اس صورتحال کو محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق خصوصاً خاندانی روابط، نقل و حرکت کی آزادی اور باوقار زندگی کے حقوق مسلسل پامال کئے جا رہے ہیں۔

حریت قیادت نے اقوام متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں، اپنی خاموشی ترک کریں اور جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے موثر، ٹھوس اور فوری اقدامات کریں۔ اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آخر کب تک کشمیری عوام کو اس طرح کے اذیت ناک مناظر کا سامنا کرنا پڑے گا؟ کب انہیں اپنے پیاروں کے آخری دیدار جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم رکھا جائے گا؟ اور کب انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا جائز اور تسلیم شدہ حق خودارادیت فراہم کیا جائے گا؟ کل جماعتی حریت کانفرنس نے دونوں مرحومین کے بلند درجات کی دعا کی اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حریت قیادت اس غم میں برابر کی شریک ہے اور کشمیری عوام کے بنیادی، انسانی اور سیاسی حقوق کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی۔

اجلاس میں سینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی،محمود احمد ساغر ، جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد ، الطاف حسین،میر طاہر مسعود ،شمیم شال ،وانی،سید فیض نقشبندی ،شیخ عبد المتین ،حسن البنا،جاوید جہانگیر، نثار مرزا، سید اعجاز رحمانی ،راجہ خادم حسین ،داود خان، چوہدری شاہین ،زاہد صفی، کفایت حسین رضوی ،زاہد اشرف ،حاجی محمد سلطان،محمد شفیع ڈار،امتیاز وانی، میاں مظفر،محمد اشرف ڈار ،سید گلشن، منظور احمد ڈار،شیخ عبد الماجد، عدیل مشتاق ، زاہد مجتبی، نذیر کرناہی اور سکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے شرکت کی۔