Live Updates

علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی جیسی عظیم شخصیت ہر عہدکی ضرورت ہے، محمودشام

منگل 28 اپریل 2026 22:38

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اپریل2026ء) عالم اسلام کے اتحاد‘ اسلامی ممالک میںاختلافات ختم کرانے اور پاکستان کو بچانے کے لئے قائدملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی جیسی عظیم شخصیت کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کااظہار کراچی پریس کلب میں ملک محبوب رسول قادری کی کتاب ’’مولانا شاہ احمد نورانی کی جدوجہد اور قومی اخبارات‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز دانشوروں‘ صحافیوں‘ مذہبی اورسیاسی رہنماؤں نے کیا۔

ممتاز صحافی محمود شام نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک محبوب رسول قادری ی یہ کاوش انتہائی منفرد ہے۔ بڑے لوگ چھوٹے شہروں میں ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علامہ شاہ احمد نورانی کو درجنوں بار بڑی بڑی پیشکشیں ہوئی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر تمام پیشکشیں ٹھکرا دیں کہ ’’ہمارا سودا دربار رسالت میں ہوچکا ہے‘‘۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ علامہ شاہ احمد نورانی کی بصیرت اور جدوجہد نے ہمیں 1973ء کا متفقہ آئین دیا۔

اس آئین کیلئے ان کا کردار سب سے منفرد اور کلیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ شاہ احمد نورانی ایک عالمی شخصیت تھے۔ انہوں نے اسلامی ممالک میں اختلافات ختم کرانے اور عراق ایران جنگ کے خاتمے کے لئے موثر اور بھرپور کردار ادا کیا۔ محمود شام نے کہا کہ یہ کتاب پاکستان کے حساس دور کی تاریخ ہے۔ ان کے بیانات سے سیاسی بصیرت اور پختگی کا اندازہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علامہ نورانی پاکستان کے حامی علماء کی نمائندگی کرتے ہوئے مخالفین پاکستان کے خلاف بھی سینہ سپر رہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان کا بے باکانہ کردار ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ڈاکٹر معراج الہدٰی صدیقی نے کہا کہ قائد ملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی ایک ایسی شخصیت تھے جو تمام مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرسکتے تھے۔

ان کی قیادت میں سب جمع ہوجاتے تھے۔ ساری زندگی الله اور اس کے رسولﷺ کے دین کی حفاظت کی۔ 30جون 1974ء سے 7ستمبر 1974ء کے دوران بے مثال تحریک ختم نبوت چلائی اور قادیانیوں کوغیر مسلم اقلیت قرار دلوایا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد بھی علامہ شاہ احمد نورانی نے اسمبلی میں پیش کی۔ کراچی میں 62سال ایک ایسی شخصیت رہی جو سیاست اور مذہب میں قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ قوم کی رہنمائی کرتی رہی۔

پاکستان سنی تحریک کے صدر ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ علامہ نورانی نے اس وقت جنرل مشرف کو سنی تحریک کے دفتر کے محاصرہ اور کارروائی سے روکا جب کچھ عناصر محب وطن مذہبی جماعتوں کو مختلف جھوٹے الزامات لگاکر ختم کرنے کے درپے تھے۔ علامہ نورانی نے جنرل مشرف سے کہا کہ سنی تحریک پاکستان کی محب وطن جماعت ہے جو ہرمحاذ پر پاکستان کے تحفظ کیلئے میدان عمل میں آئی ہے۔

ثروت قادری نے کہا کہ آج بھی پاکستان کو بچانے کیلئے علامہ نورانی جیسی بے باک اور محب وطن شخصیت کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی نے کہا کہ یہ کتاب 1977ء سے 2002ء تک کے سینکڑوں اخباری تراشوں پرمشتمل ایک عہد کی تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ الله تعالٰی ہر دور میں دین کی خدمت اور حفاظت کے لئے اپنے خاص بندے مقرر فرماتا ہے۔ علامہ شاہ احمد نورانی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے۔

انہوں نے کہا کہ ماریشس کے پروفیسر نے علامہ نورانی پر کتاب لکھی۔ مولانا نورانی وہ عالمی شخصیت تھے جنہوں نے غیروں کو بھی متاثر کیا۔ کینیڈا میں علامہ نورانی جس مسجد میں نماز کیلئے جاتے تھے اسے کینیڈین حکومت نے قومی ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی نے کہا کہ علامہ نورانی کے والد شاہ عبدالعلیم صدیقی نے دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ کی اور تحریک پاکستان کے دور میں قائد اعظم ؒ نے انہیں دنیا بھر میں تحریک پاکستان کو روشناس کرانے کا مشن سونپا تھا۔

ممتاز مذہبی اسکالر علامہ شاہ حسین گردیزی نے کہا کہ لوگ چلے جاتے ہیں لیکن علامہ شاہ احمد نورانی جیسی شخصیات لوگوں کے دلوں سے نہیں جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ علامہ نورانی نے کوثر نیازی کا چیلنج قبول کرکے مسلمان کی متفقہ تعریف پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کرکے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ۔انہوں نے کہاکہ علامہ نورانی نے پاکستان کے نے فقیرانہ انداز میں شاہانہ زندگی گزاری۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شبیر ابوطالب نے کہا کہ محبوب رسول قادری نے 30کتابیں لکھیں اور سب کی سب علامہ نورانی کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک معروف مذہبی اور سیاسی رہنما ہونے کے باوجود علامہ نورانی نے پیر اور جمعرات کو روزے رکھے اورباقاعدگی سے تہجد کی نماز ادا کی اور 63سال تک نماز تراویح میں قرآن پاک سنایا۔

تقریب کے اختتام پر ملک محبوب رسول قادری نے علامہ نورانی کیلئے دعائے مغفرت کرائی۔ تقریب کا آغاز قاری محمد نواز کی تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جبکہ قصیدہ بردہ شریف قاری محمد اسرار قادری نے سنایا۔ ڈاکٹر عابد شیروانی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ طاہر حسین طاہر سلطانی نے علامہ نورانی کے بارے میں منقبت سنائی۔ اس موقع پر صحافیوں‘ علماء‘ دانشوروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات