پاکستان میں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح کا انکشاف، قومی سطح پر فوری اقدامات کا فیصلہ

جمعہ 1 مئی 2026 23:32

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 01 مئی2026ء) پاکستان میں بچوں کی صحت سے متعلق ایک تشویشناک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح پائی گئی ہے۔ یہ رپورٹ وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ اور یونیسف کے اشتراک سے جاری کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق سات شہروں کے ہائی رسک علاقوں میں کیے گئے سروے میں 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی موجودگی پائی گئی، جبکہ مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد بچوں کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 12 سے 36 ماہ کے بچوں پر کی گئی اس اسٹڈی میں ہری پور کے علاقے ہٹڑ میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک رہی، جہاں 88 فیصد بچوں میں سیسے کی بلند سطح ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس اسلام آباد میں صرف 1 فیصد بچوں میں سیسے کی موجودگی پائی گئی۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور راولپنڈی کے صنعتی علاقے بھی تحقیق میں شامل کیے گئے، جہاں مختلف درجوں میں آلودگی اور سیسے کی موجودگی سامنے آئی۔

ماہرین کے مطابق سیسہ بچوں کی نشوونما، دماغی صلاحیت اور قوتِ مدافعت کو شدید متاثر کرتا ہے، جبکہ اس سے ذہانت میں کمی، یادداشت کے مسائل اور رویے کی خرابیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیسے کے اثرات مستقل اور بعض اوقات ناقابلِ واپسی ہو سکتے ہیں۔تحقیق میں سیسے کے ممکنہ ذرائع میں صنعتی آلودگی، بیٹری ری سائیکلنگ، پینٹس، آلودہ مصالحہ جات، خوراک اور روایتی کاسمیٹکس کو اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بچے بڑوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ سیسہ جذب کرتے ہیں، اور اس کی کوئی محفوظ حد موجود نہیں کیونکہ اس کے اثرات زندگی بھر رہ سکتے ہیں۔عالمی اندازوں کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد تک بچے سیسے کی آلودگی سے متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ اس کے باعث ملکی معیشت کو سالانہ 25 سے 35 ارب ڈالر تک نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وزارتِ صحت نے اس صورتحال کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے بچوں اور حاملہ خواتین میں سیسے کی سطح جانچنے کے لیے ملک گیر سروے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔