ٹرمپ کے غزہ منصوے کو دھچکا، اسرائیل میں قائم اہم مرکز کو بند کرنے کا فیصلہ ، امن منصوبہ خطرے میں پڑ گیا
مرکز کی تمام ذمہ داریاں اب ایک بین الاقوامی سیکیورٹی مشن کے حوالے کر دی جائیں گی جس کی کمان امریکا کے پاس ہوگی اور اسے غزہ میں تعینات کیا جائے گا . رپورٹ
میاں محمد ندیم
ہفتہ 2 مئی 2026
17:50
(جاری ہے)
اس مرکز کی بندش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دی جا رہی ہے جو پہلے ہی اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد اسرائیل کے مسلسل حملوں اور حماس کے ہتھیار ڈالنے سے انکار کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے رپورٹ کے مطابق سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امداد کی فراہمی اور جنگ بندی کی نگرانی کی امریکی کوششیں کتنی مشکل ہو چکی ہیں، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب اسرائیل مزید فلسطینی علاقوں پر قبضے کر رہا ہے اور حماس اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے. رپورٹ میں کہا گیا کہ اس مرکز کی تمام ذمہ داریاں اب ایک بین الاقوامی سیکیورٹی مشن کے حوالے کر دی جائیں گی جس کی کمان امریکا کے پاس ہوگی اور اسے غزہ میں تعینات کیا جائے گا اگرچہ امریکی حکام اسے نظام کی بہتری قرار دے رہے ہیں، لیکن سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر اس مشن سے پرانے مرکز کا کردار ختم ہو جائے گا. اس تبدیلی کے بعد امریکی فوجیوں کی تعداد 190 سے کم ہو کر صرف 40 رہ جائے گی اور ان کی جگہ دوسرے ممالک کے سویلین عملے کو شامل کیا جائے گا. ٹرمپ انتظامیہ کے بورڈ آف پیس کے ایک عہدیدار نے اس مرکز کے مستقبل پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا لیکن یہ ضرور کہا کہ یہ مرکز امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے اور ٹرمپ کے منصوبے کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے. دوسری جانب ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ مرکز کی اہمیت اب اتنی کم ہو چکی ہے کہ کچھ ممالک کے نمائندے مہینے میں صرف ایک بار یہاں آتے ہیں دوسری جانب غزہ کی صورتحال اب بھی انتہائی سنگین ہے جہاں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں 800 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں. اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حماس کے خطرے کو روکنے کے لیے ہیں، جبکہ فلسطینی اسے اپنی سرزمین پر قبضے کا بہانہ قرار دیتے ہیں امداد کی سطح بھی جوں کی توں ہے کیونکہ اسرائیل بہت سی اشیا، جیسے خیموں کی لکڑیاں اور ملبہ ہٹانے والی مشینری کو فوجی استعمال کا ڈر بتا کر غزہ لے جانے کی اجازت نہیں دے رہا ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے عہدیدار کے مطابق، غزہ کو درحقیقت ایک ایسی پائیدار سویلین انتظامیہ کی ضرورت ہے جو اسے امداد پر انحصار اور تشدد کے چکر سے نجات دلا سکے.
متعلقہ عنوان :
مزید اہم خبریں
-
ایران کے جدیدترین” عرش ٹو“ کاماکازی ڈرون کی تہران میں عوامی نمائش
-
ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو عربوں کے شاہی محلات محفوظ نہیں رہیں گے.تہران کی وارننگ
-
جرمن چانسلر کے ساتھ لفظی جنگ ‘ٹرمپ نے جرمنی سے پانچ ہزارفوجی واپس بلانے کا اعلان کردیا
-
ٹرمپ کا یورپی یونین سے گاڑیوں کی درآمد پر ٹیرف 25 فیصد تک بڑھانے کا اعلان
-
پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین کا عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوس کرنے کا اعلان
-
ناکام بیل آﺅ ٹ کے بعد سستی امریکی فضائی سروس سپرٹ ایئرلائنز 34 برس بعد بند
-
چین و امریکا کے تعلقات صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں. اقوام متحدہ میں چینی مندوب
-
مہنگائی ،گھی ، کوکنگ آئل، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے
-
اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3 ججز کا ٹرانسفر ،سنیارٹی لسٹ تبدیل ،جسٹس سردار اعجاز اسحاق سینیئر ترین جج
-
ابوظہبی میں پاکستانی سفارتخانے کی پاسپورٹ سروس عارضی طور پر معطل
-
ٹرمپ کے غزہ منصوے کو دھچکا، اسرائیل میں قائم اہم مرکز کو بند کرنے کا فیصلہ ، امن منصوبہ خطرے میں پڑ گیا
-
61 فیصد امریکیوں نے ایران پر جارحیت کو غلطی قرار دےدیا،36فیصد حامی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.