Live Updates

ایران کے جدیدترین” عرش ٹو“ کاماکازی ڈرون کی تہران میں عوامی نمائش

عرش ٹو کی رینج 2ہزارکلومیٹرتک ہے جبکہ یہ 150کلو گرام سے دھماکہ خیزمواد اور چھوٹے میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے. ایرانی نشریاتی ادارے کی رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ 2 مئی 2026 18:14

ایران کے جدیدترین” عرش ٹو“ کاماکازی ڈرون کی تہران میں عوامی نمائش
تہران(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔02 مئی ۔2026 ) ایران نے ”عرش ڈرون“ کے نئے اور جدید ورژن عرش ٹو کاماکازی ڈرون کو تہران میں ایک بڑے عوامی اجتماع کے دوران پیش کیا ہے‘ایرانی پاسدران انقلاب کی انجنیئرنگ کور کی جانب سے تیار کیا گیا”عرش ٹو“ڈرون خصوصی طور پر خودکش حملوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے. ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق عرش ٹو کاماکازی ڈرون کی رینج 2ہزارکلومیٹرتک ہے جبکہ یہ 150کلو گرام سے دھماکہ خیزمواد اور چھوٹے میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے‘رپورٹ میں بتایا گیا ہے آئی آرجی سی کی انجنیئرنگ کور جلد ایک زیادہ طاقتور ڈرون متعارف کروائے گی جس کی رینج3ہزارکلومیٹر کے قریب اور لوڈلیجانے کی صلاحیت کو تین سوکلو گرام کے قریب ہوگی.

(جاری ہے)

پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ کے پاس خودکار چھوٹی برق رفتار کشتیوں کے لاتعدادفلیٹ موجود ہیں اور حال ہی اس نے خودکش حملوں کے لیے ایسی چھوٹی کشتیاں بنائی ہیں جو سینکڑوں کی تعداد میں گروپوں کی شکل میں ٹارگٹ پر حملہ آورہونگی‘ایرانی بحریہ نے اسے ”مچھرفلیٹ“کا نام دیا ہے . رپورٹ میں کہا گیا ہے خلیج فارس کی ہزاروں سمندری غاروں میں یہ چھوٹی کشتیاں حملوں کے لیے تیار کھڑی ہیں جونہی قیادت کی جانب سے حکم ملے گا یہ حرکت میں آجائیں گی ‘ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دشمن ایران کی دفاعی حکمت عملی سے پریشان ہے ‘جس طرح ایرانی میزائلوں اور ڈرونزنے جنگ کے تصوات کو ہمیشہ کے لیے بدل کررکھ دیا ہے اسی طرح وقت آنے پر ایرانی بحریہ سمندر میں اپنی برتری ثابت کرئے گی.

ادھر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے خیال میں امریکا اور اسرائیل بعض عرب ہمسایہ ممالک کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے زمینی کاروائی پر سنجیدگی سے غورکررہا ہے‘ایرانی خبررساں ادارے کے مطابق ایران نے اپنے جزائرپر خصوصی فوجی انتظامات کررکھے ہیں اور دوبارہ حملوں کی صورت میں خودکار نظام کے تحت ایرانی میزائل‘ڈرونز‘خودکش کشتیاں اور افواج حرکت میں آجائیں گی.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکمت عملی کے تحت خطے میں موجود امریکی بحری اثاثے پہلا ٹارگٹ ہونگے‘واضح رہے کہ چند روزقبل عالمی خبررساں ادارے نے انکشاف کیا تھا کہ خطے میں امریکی بحری بیڑوں پر تعینات متعدداہلکارو ں کو ایران کے ہیکرگروپ”ہنڈالا“ کی جانب سے موبائل فونز‘وٹس اپ اور دیگر ایپس کے ذریعے تنبہی پیغامات موصول ہوئے تھے جن میں امریکی فوجی اہلکاروں کی شناخت اور ذاتی معلومات کو بھی شیئرکیا گیا تھا .

ایرانی ہیکرگروپ کی جانب سے پیغام میں کہا گیا تھا کہ میناب سکول میں شہید ہونے والی بچیوں کے خون کا حساب دینے کے لیے تیار رہیں‘پیغام میں یہ بھی دعوی کیا گیا تھا کہ فوج اورخفیہ ایجنسیوں سمیت امریکا کے محفوظ ترین سسٹم ان کی پہنچ سے باہر نہیں ہیں ‘قبل ازیں ”ہنڈالا“نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کے ذاتی کمپیوٹر‘اسرائیلی فوج کو سائبرسیکورٹی فراہم کرنےوالی کمپنی کے کمپیوٹرسسٹم کے ذریعے ”آئی ڈی ایف“سے منسلک کمپیوٹرسسٹم کو ہیک کرکے انتہائی حساس معلومات تک رسائی حاصل کی تھی جس کے بعد موساد کے سربراہ کو ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا.
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات