Live Updates

جرمن چانسلر کے ساتھ لفظی جنگ ‘ٹرمپ نے جرمنی سے پانچ ہزارفوجی واپس بلانے کا اعلان کردیا

اٹلی اور اسپین میں بھی فوجی اڈے بندکرنے کا عندیہ‘یورپی راہنما دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ اپنے دفاع کے بارے میں فکرمند ہیں.

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ 2 مئی 2026 18:09

جرمن چانسلر کے ساتھ لفظی جنگ ‘ٹرمپ نے جرمنی سے پانچ ہزارفوجی واپس بلانے ..
واشنگٹن/برسلز(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔02 مئی ۔2026 ) امریکہ نے نیٹو اتحادی جرمنی میں موجود بڑے یورپی فوجی اڈے سے 5ہزار فوجیوں کو واپس بلا نے کا اعلان کیا ہے پینٹاگون ذرائع نے اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپ کے درمیان ایران جنگ کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کا نتیجہ قراردیا ہے. خبررساں ادارے”روئٹرز“کے مطابق ٹرمپ نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ تلخ بیانات کے تبادلے کے بعد افواج میں کمی کی دھمکی دی تھی ‘جرمن چانسلرکا کہنا تھا کہ ایرانی دو ماہ پرانی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت میں امریکہ کی تذلیل کر رہے ہیں اور وہ یہ نہیں دیکھتے کہ واشنگٹن کیا خارجی حکمت عملی اپنا رہا ہے.

(جاری ہے)

پینٹاگون کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جرمن چانسلرکے حالیہ بیانات”نامناسب اور غیر مددگار“ تھے اورصدرٹرمپ بجا طور پر ان ریمارکس پر ردعمل ظاہر کر رہے ہیں پینٹاگون کا کہنا ہے کہ فوج کا انخلا اگلے چھ سے 12 ماہ میں مکمل ہونے کی امید ہے جرمنی میں تقریباً35ہزار فعال امریکی فوجی اہلکار ہیں اور یہ یورپ میں امریکا کا سب سے بڑا ملٹری بیس ہے اہلکار نے کہا کہ انخلاءسے یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعداد تقریباً 2022 سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائے گی، اس سے پہلے کہ یوکرین پر روس کے حملے نے اس وقت کے صدر جو بائیڈن کی طرف سے تعمیر کو متحرک کیا تھا.

عہدیدار نے بتایا کہ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یورپ کو براعظم میں سیکورٹی فراہم کرنے والا اہم ملک بننے کے لیے دباﺅ کے تناظر میں بھی کیا لیکن بہر حال یہ اتحادیوں کی طرف سے سمجھی جانے والی بے وفائی کا جواب دینے کے لیے ٹرمپ کی رضامندی کی ایک اور قوی یاد دہانی ہے . ادارے کا کہنا ہے کہ اسے گزشتہ ہفتے پینٹاگون کی ایک اندرونی ای میل کے ذریعے اطلاع ملی تھی جس میں نیٹو اتحادیوں کو سزا دینے کے اختیارات کا خاکہ پیش کیا گیا تھا جس کے بارے میں واشنگٹن کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی کارروائیوں کی حمایت کرنے میں ناکام رہا ہے، بشمول اسپین کو نیٹو سے معطل کرنا اور فاک لینڈ جزائر پر برطانیہ کے دعوے پر امریکی موقف کا جائزہ لینایہ واضح نہیں ہے کہ آیا یورپ سے مزید امریکی فوجیوں کا انخلا ہوگا یا نہیں تاہم جمعرات کے روز ٹرمپ نے اٹلی اور اسپین سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے حوالے سے سوال پر کہا تھا کہ ”شاید“وہ ایسا فیصلہ کریںگزشتہ ماہ ٹرمپ نے اسپین پر مکمل امریکی تجارتی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی تھی جب اسپین نے کہا تھا کہ وہ ایران پر حملہ کرنے کے لیے اپنے اڈوں یا فضائی حدود کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اسپین میں امریکا کے دو اہم فوجی اڈے ہیں: نیول اسٹیشن روٹا اور مورون ایئر بیس موجود ہیں.

اس کے علاوہ ٹرمپ کی ایران جنگ اور پوپ لیو پر ٹرمپ کی تنقید پر اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی سے بھی جھڑپ ہوئی ہے امریکی صدر نے اپریل میں کہا تھا کہ میلونی کبھی ان کی مضبوط حامی تھی مگر ان میں ہمت نہیں کہ وہ ایران جنگ میں امریکا کے ساتھ کھڑی ہوں امریکی صدر نے جارجیا میلونی کے بارے میں یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے واشنگٹن کو مایوس کیا ہے.

واضح رہے کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے عہد صدارت میں بھی جرمنی میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو کم کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا جس کے تحت جرمنی میں واقع امریکی ملٹری بیس سے12ہزارفوجیوں کو واپس بلایا جانا تھا تاہم وہ اس پر عمل درآمد نہیں کرسکے تھے‘جرمنی کے شہر لینڈسٹول میں امریکی فوج کا بہت بڑا فوج ہسپتال بھی موجود ہے جسے امریکا کے باہر فوج کا سب سے بڑا ہسپتال قراردیا جاتا ہے .

ادھرماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی راہنما دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ اپنے دفاع کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور ممکنہ طور پر یورپی اتحادی ممالک نیٹو اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے زیادہ فنڈزفراہم کریں گے جبکہ صدرٹرمپ امریکا کو نیٹو سے الگ کرنے پر زوردے رہے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ یورپ بڑا معاشی بلاک ہونے کے باوجود اپنی دفاعی اور خارجہ پالیسی کے لیے واشنگٹن کا محتاج تھا اب یورپ کو موقع ملا ہے کہ وہ امریکا پر انحصارکی بجائے اپنا دفاعی نظام اور مشترکہ خارجہ پالیسی اپنائے اس سے یوروزون مزید مستحکم ہوگا‘ان کا کہنا ہے کہ اگر یورپ روس کے ساتھ مذکرات کے ذریعے معاملات کو طے کرلیتا ہے تو اسے امریکا کے مقابلے میں ماسکو سے برابری کی سطح پر شراکت داری کے مواقع میسرآسکتے ہیں.

عالمی شہرت یافتہ امریکی معاشیات اورعالمی امورکے ماہر پروفیسرجیفری سیکس کے مطابق دو کئی دہائیوں سے یورپی راہنماﺅں کو یہ مشورہ دیتے آرہے ہیں ‘انہوں نے کہاکہ یوکرین کے معاملے پر یورپی راہنماﺅں نے ایک بار بھی مسلے کے سفارتی حل کے لیے ماسکو سے رابط نہیں کیا ‘پروفیسر جیفری سیکس کا کہنا ہے کہ روس امریکا کے مقابلے میں زیادہ بہتر پارٹنرثابت ہوسکتا ہے ‘اس کے علاو ہ یورپ دہائیوں سے توانائی کی ضروریات روس سے حاصل کررہا تھا تاہم یوکرین جنگ میں غیرمنطقی پالیسی کے تحت یورپ نے ماسکو کے ساتھ توانائی فراہمی کے معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کردیا جس کے منفی اثرات پورے یورپ کی معیشت پر نظرآرہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ سویت یونین کے خاتمے کے بعد ماسکو کو تحریری معاہدوں کے ذریعے گارنٹی فراہم کی گئی تھی کہ نیٹو روس کی سرحدوں سے دور رہے گی اور روس کے ہمسایہ ممالک کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا ‘اس کے علاوہ صدرکلنٹن کے دور میں روسی صدرولایمرپوٹن نے نیٹو فوجی اتحاد میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاہم امریکا اور یورپ نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا.

پروفسیرجیفری سیکس جو روس اور یوکرین کی حکومتوں کے معاشی مشیر رہ چکے ہیں اور خطے کی سیاست پر گہری نظررکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یوکرین خصوصا کریمیا کا معاملہ روس کے لیے بہت حساس ہے ‘روسی فوج کا سب سے بڑا نیول بیس صدیوں سے کریمیا میں ہے ‘سویت یونین کے خاتمے کے بعد روس یوکرین کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے کریمیا میں اپنے نیول بیس کو کنٹرول کرتا آرہا تھا تاہم امریکا اور یورپی راہنماﺅں کے اکسانے ‘رجیم چینج کے ذریعے ماسکو کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے والی یوکرینی حکومت کے خاتمے کے بعد روس نے کریمیا پر قبضہ کیا .

ا ن کے نزدیک مستقل قریب میں روس یورپ کا بڑااتحادی بن سکتا ہے‘انہوں نے کہا کہ یورپی قائدین کے ساتھ ملاقاتوں میں وہ انہیں یوکرین کے معاملے پر روس کے ساتھ مذکرات کرنے پر زوردیتے ہیں پروفیسرجیفری سیکس کا کہنا ہے کہ انہیں حیرت ہے کہ یورپی یونین نے آج تک ایک مرتبہ بھی ماسکو سے براہ راست رابط نہیں کیا اور نہ ہی مذکرات کے میزپر بیٹھے ہیں. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات