Live Updates

ٹرمپ کا یورپی یونین سے گاڑیوں کی درآمد پر ٹیرف 25 فیصد تک بڑھانے کا اعلان

ٹرمپ ٹیرف کو دوبارہ پرانی پوزیشن پر لاکر اتحادیوں کے خلاف ہتھیار کے طورپر استعمال کررہے ہیں‘یورپی اکنامک انسٹی ٹیوٹ کے صدر کا امریکی ٹیک کمپنیوں کے خلاف جوابی ٹیرف لگانے کا مطالبہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ 2 مئی 2026 18:07

ٹرمپ کا یورپی یونین سے گاڑیوں کی درآمد پر ٹیرف 25 فیصد تک بڑھانے کا اعلان
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔02 مئی ۔2026 ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ یورپی یونین سے کاروں اور ٹرکوں پر ٹیرف 25 فیصد تک بڑھا دیں گے جو پہلے سے طے شدہ 15 فیصد تھا، انہوں نے الزام عائدکیا کہ یورپی بلاک نے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدے کی تعمیل نہیں کی ہے. ماہرین امریکی صدرکے اقدام کو یورپی راہنماﺅں اور تجارتی گروپوں سرزنش قراردے رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ یورپ کا ایران جنگ میں امریکا کی غیرمشروط حمایت سے انکاراور بعض یورپی راہنماﺅں کی جانب سے اس جنگ کی مخالفت کرنا ہے، ایک یورپی ماہر اقتصادیات نے برسلز اور جرمن حکومت سے ہمت دکھانے اور جوابی محصولات عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے.

(جاری ہے)

ٹرمپ نے”ٹروتھ سوشل“پر لکھا کہ یورپی یونین تجارتی معاہدے پر ہماری مکمل رضامندی کی تعمیل نہیں کر رہی ہے،اس لیے میں اگلے ہفتے میں امریکا میں آنے والی کاروں اور ٹرکوں کے لیے یورپی یونین پر عائد ٹیرف میں اضافہ کروں گا انہوں نے لکھا کر اگر یورپی کمپنیاں امریکا میں اپنے پلانٹس لگائیں اورگاڑیاں تیار کریں، توان پر کوئی ٹیرف نہیں ہوگا.

دریں اثنا صحافیوں سے گفتگو میںٹرمپ نے بتایا کہ زیادہ ٹیرف یورپی کار سازوں کو زیادہ تیزی سے پیداوار امریکہ منتقل کرنے پر مجبور کرے گا انہوں نے کہا کہ ہمارا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدہ ہے، وہ اس پر عمل نہیں کر رہے تھے اس لیے میں نے کاروں اور ٹرکوں پر ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جس سے امریکا کو اربوں ڈالر ملیں گے اس کے علاوہ یہ انہیں اپنی فیکٹری کی پیداوار کو بہت تیزی سے منتقل کرنے پر مجبور کرتا ہے .

دوسری جانب یورپی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ٹیرف کے معاملے کو دوبارہ پرانی پوزیشن پر لے آئے ہیں اور وہ اسے اتحادیوں کے خلاف ہتھیار کے طورپر استعمال کررہے ہیں‘انہوں نے کہاکہ یورپی شہری جواب میں یونین کے ممالک میں موجود ٹرمپ خاندان کے کاروباری اداروں اور جائیدادوں پر اضافی ٹیکس کا مطالبہ کرسکتے ہیںاسی طرح یورپ امریکی مصنوعات پر بھی اضافی ٹیرف عائدکرسکتا ہے.

انہوں نے کہا کہ دنیا میں منڈیاں تبدیل ہورہی ہیں چین نے اضافی ٹیرف کے بعد نئی منڈیوں کا رخ کیا اور سپلائی چین میں خلل ‘اشیاءضروریہ کی قلت نے ٹرمپ انتظامیہ کو چینی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر مجبور کیا‘انہوں نے کہا کہ چین کی طرح یورپی یونین بھی نئی منڈیاں تلاش کررہی ہے اگرچہ امریکا کی جانب سے گاڑیوں پر اضافی ٹیرف سے آٹوسیکٹرکو دھچکا لگے گا تاہم ا س کے لیے دنیا کی بہت ساری منڈیاں کھلی ہیں .

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں پلانٹس لگانا آسان فیصلہ نہیں ہے خصوصا صدرٹرمپ کے متضاد فیصلو ں کے بعد دنیا بھرکے سرمایہ کاروں کا امریکا پر اعتماد کم ہوا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مستقبل میں بھی ٹرمپ جیسا کوئی کردار اقتدار میں آگیا تو ان کی طویل مدتی سرمایہ کاری خطرے میں پڑجائے گی‘ان کے نزدیک پچھلے سال ریاست جارجیا میں کورین کمپنی ”ہنڈائی“کے زیرتعمیر پلانٹ پر امریکی امیگریشن پولیس(آئس)چھاپہ مارکاروائی اور کورین شہریت کے حامل انجنیئرز کی گرفتاری‘انہیں ایک ماہ کے قریب حراست میں رکھنے اور ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنے کے واقعات کے بعد دنیا کا کوئی بھی کاروباری ادارہ امریکا میں فیکٹری نہیں لگانا چاہتا.

واضح رہے کہ یورپی یونین کے ساتھ ٹیرف کے معاہدے میں یورپی گاڑیوں سمیت دیگر مصنوعات پر ٹیرف کو25فیصد سے کم کرکے15فیصد کرنے پر اتفاق کیا گیا تھاجبکہ یورپی یونین نے گاڑیوں سمیت امریکی مصنوعات پر ڈیوٹیزختم کرنے پر اتفاق کیا تھا‘یورپی یونین نے رواں سال مارچ میں اس سلسلہ میں قانونی سازی کی تھی اور جون سے پہلے اس معاہدے کے اطلاق کا عندیہ دیا تھا کیونکہ یورپی پارلیمنٹ معاہدے کے بعض نکات پر بحث کررہی ہے.

صدرٹرمپ کے نئے ٹیرف کے اعلان پر یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی کے سربراہ برنڈلینج نے امریکی صدرکے رویے کو ناقابل قبول قراردیا انہو ں نے کہا کہ تازہ ترین اقدام یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی فریق کتنا ناقابل اعتماد ہے ہم گرین لینڈ کے معاملے میں امریکہ کی طرف سے ان من مانی حملوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں انہوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قریبی شراکت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے اب ہم صرف اپنے موقف کی مضبوطی کو دیکھتے ہوئے، انتہائی وضاحت اور مضبوطی کے ساتھ جواب دے سکتے ہیں.

جرمنی کے ”ڈی آئی ڈبلیو“اکنامک انسٹی ٹیوٹ کے صدرمارسیل فرائزشر نے امریکی ٹیک کمپنیوں کے خلاف جوابی ٹیرف لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف یہی طریقہ ٹرمپ انتظامیہ کو روک سکتا ہے‘دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے سنیئراہلکار کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نے آٹھ ماہ گزرنے کے بعد بھی آٹوز ڈیل کی تعمیل نہیں کی‘ٹرمپ کی سابق تجارتی مشیرکیلی این شا نے کہا کہ گزشتہ موسم گرما کے تجارتی معاہدے پر عمل درآمد میں یورپی یونین کی سست پیش رفت کے پیش نظر ٹوٹنا ناگزیر تھا انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اگست تک ٹرن بیری معاہدے کو موثر طریقے سے لاگو کیا اور ہم تقریباً ایک سال بعد ہیں اور ہمیں ابھی تک یورپی یونین کی طرف سے ایک بھی ٹیرف میں کمی دیکھنا باقی ہے ادھر ٹرمپ کے اعلان کے بعد نیویارک سٹاک ایکسچینج میں کارسازکمپنیوں کے حصص میں کمی دیکھی گئی ہے.

رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ امریکی کار سازوں نے نجی طور پر ٹرمپ کو بتایا ہے کہ وہ اس وقت تک پیداوار میں بڑی تبدیلیوں کو روکیں گے جب تک کہ وہ امریکہ-میکسیکو-کینیڈا تجارتی معاہدے کے مستقبل کے بارے میں مزید وضاحت حاصل نہیں کر لیتے کیونکہ امریکی کارسازکمپنیوں کے لیے کینیڈا ‘میسکیو اور جنوبی امریکی ممالک بڑی مارکیٹ ہیں ‘ادھراطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران جنگ کے بعد کارسازکمپنیو ں کو اپنی پروڈکشن روک کر انہیں اسلحہ سازفیکٹریوں میں تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے.

امریکی جریدے نے معاملے کو پچیدہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ مرسیڈیزسمیت دیگر یورپی کارسازکمپنیوں نے اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کو یقین دہانیاں کروائی ہیں تاہم پلانٹس کو امریکا منتقل کرنے کا عمل طویل مدتی ہے جبکہ صدرٹرمپ فوری نتائج چاہتے ہیں‘رپورٹ کے مطابق موجودہ انتظامیہ کو ہرمحاذپر ناکامیوں کا سامنا ہے اور صدرکی مقبولیت تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے اگرچہ امریکی صدر خود کو زیادہ جارح اور مضبوط دکھانے کی کوشش کررہے ہیں تاہم رواں سال نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں انہیں شدید قسم کے سیاسی جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور ممکنہ طورپر ہاﺅس میں ریبپلکنزکی اکثریت اقلیت میں تبدیل ہوجائے گی جس کے بعد ٹرمپ کے پاس ملکی امورصدارتی حکم ناموں کے ذریعے چلانے کی آزادی نہیں رہے گی. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات