ناکام بیل آﺅ ٹ کے بعد سستی امریکی فضائی سروس سپرٹ ایئرلائنز 34 برس بعد بند
فضائی کمپنی کو اربوں ڈالر کے خسارے کا سامنا تھا‘کمپنی کا پروازیں معطل کرکے مسافروں کو ریفنڈ دینے کا اعلان
میاں محمد ندیم
ہفتہ 2 مئی 2026
18:03
(جاری ہے)
امریکی نشریاتی ادار ے کے مطابق ہفتہ کے ر وزسامنے آنے والے اس فیصلے کے بعد کمپنی نے اپنی تمام تر پروازیں فوری طور پر معطل کر دی ہیں جس سے نہ صرف ہزاروں مسافروں کا سفر متاثر ہوا ہے بلکہ انڈسٹری میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے اپنے چمکدار زرد رنگ کے جہازوں کے لیے مشہور اس ایئرلائن نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اب آپریشنز جاری رکھنا ممکن نہیں رہا اور کسٹمر سروس کی سہولت بھی ختم کر دی گئی ہے.
کمپنی نے متاثرہ مسافروں کو ٹکٹوں کی رقم کی واپسی (ری فنڈز)کی یقین دہانی تو کرائی ہے تاہم یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ دیگر ایئرلائنز پر متبادل بکنگ کے لیے مسافروں کی کوئی مدد نہیں کی جا سکے گی سپرٹ ایئرلائنز کی یہ اچانک بندش اس وقت سامنے آئی جب جمعے کے روز امریکی حکومت کی جانب سے کسی مالی امداد یا ”بیل آﺅٹ“ پیکج کے بغیر ہی دن گزر گیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے ٹیکس گزاروں کے پیسوں سے اس بجٹ ایئرلائن کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک آخری تجویز پیش کی تھی، تاہم فریقین کے درمیان کسی معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا. گزشتہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ایئرلائن کو بچانے کا خیال اس وقت پیش کیا تھا جب کمپنی دو برس سے بھی کم عرصے میں دوسری بار دیوالیہ پن کا شکار ہوئی تھی اس بحران کی سب سے بڑی وجہ ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر جیٹ فیول یا جہازوں کے ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والا بے پناہ اضافہ بتایا جا رہا ہے جس نے کمپنی کے مالیاتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا. کمپنی کے وکیل مارشل ہیوبنر کے مطابق اس بندش سے قریبا 17 ہزار ملازمین کا مستقبل دا پر لگ گیا ہے جن میں پائلٹس، فلائٹ اٹینڈنٹ اور ریمپ ورکرز شامل ہیں مزدور یونینز نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سپرٹ ایئرلائنز کے خاتمے سے نہ صرف ہزاروں امریکی بے روزگار ہوں گے بلکہ فضائی صنعت میں مقابلہ کم ہونے کی وجہ سے کرایوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا جس کا براہِ راست بوجھ عام صارفین پر پڑے گا. سپرٹ ایئرلائنز عالمی وبا کورونا کے بعد سے مسلسل مالی مشکلات کا شکار تھی اور نومبر 2024 سے اب تک اسے ڈھائی ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا تھا اگست 2025 میں جب کمپنی نے دوبارہ دیوالیہ پن سے بچا کے لیے تحفظ مانگا تو اس کے ذمے واجب الادا قرضوں کی رقم آٹھ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی تھی. ایوی ایشن کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ایئرلائن کی کمی سب سے زیادہ ان مسافروں کو محسوس ہو گی جو کم بجٹ میں تفریحی سفر کے عادی تھے، خاص طور پر لاس ویگاس اور فلوریڈا جیسے شہروں میں جہاں اس ایئرلائن کا نیٹ ورک بہت وسیع تھا اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سپرٹ ایئرلائنز نے اپنی صلاحیت میں پہلے ہی نمایاں کمی کر دی تھی اور گزشتہ برس کے مقابلے میں اس کی نشستوں کی تعداد قریبا نصف رہ گئی تھی کمپنی نے اپنے الوداعی بیان میں کہا ہے کہ انہیں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران سستی فضائی سہولیات کے ذریعے انڈسٹری پر ڈالے گئے اثرات پر فخر ہے لیکن معاشی حالات نے اب مزید سفر کی مہلت نہیں دی.مزید اہم خبریں
-
پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین کا عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوس کرنے کا اعلان
-
ناکام بیل آﺅ ٹ کے بعد سستی امریکی فضائی سروس سپرٹ ایئرلائنز 34 برس بعد بند
-
چین و امریکا کے تعلقات صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں. اقوام متحدہ میں چینی مندوب
-
مہنگائی ،گھی ، کوکنگ آئل، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے
-
اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3 ججز کا ٹرانسفر ،سنیارٹی لسٹ تبدیل ،جسٹس سردار اعجاز اسحاق سینیئر ترین جج
-
ابوظہبی میں پاکستانی سفارتخانے کی پاسپورٹ سروس عارضی طور پر معطل
-
ٹرمپ کے غزہ منصوے کو دھچکا، اسرائیل میں قائم اہم مرکز کو بند کرنے کا فیصلہ ، امن منصوبہ خطرے میں پڑ گیا
-
61 فیصد امریکیوں نے ایران پر جارحیت کو غلطی قرار دےدیا،36فیصد حامی
-
امریکا کی مشرق وسطی کے اتحادیوں کو 8 ارب ڈالر سے زیادہ کا فوجی سازوسامان فروخت کرنے کی منظوری
-
ایران کا آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب کے قریب سمندری حدود میں نئے قواعد نافذ کرنے کا اعلان
-
بندرگاہوں کی ناکہ بندی امریکی فوجی کارروائیوں کا تسلسل ہے. ایرن
-
امریکی نیوی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کیلئے بحری قزاقوں جیسا کردار ادا کر رہی ہے.ڈونلڈ ٹرمپ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.