اختلاف رائے رکھنے والوں کے ساتھ برتائو جمہوریت کا اصل پیمانہ ہے، دی وائر

اتوار 3 مئی 2026 13:45

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 مئی2026ء) بھارتی جیل میں نظربند مسلمان کارکن عمر خالد کے بارے میں لکھی گئی ایک کتاب میں کہاگیاہے کہ جمہوریت کا اصل پیمانہ پارلیمنٹ کا قیام یا انتخابات کا انعقاد نہیں بلکہ اختلاف رائے رکھنے والوں کے ساتھ برتائو ہوتا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کتاب میں سیاسی قیدیوں کو ریاست کا آئینہ کہاگیا ہے اوراس میں عمرخالد کی نظربندی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے کشمیری کارکن خرم پرویز، چھتیس گڑھ کی سنیتا پوٹم، سریندر گاڈلنگ اور نوئیڈا کے احتجاج میں گرفتار کارکنوں کے مقدمات کا حوالہ دیاگیا ہے۔

”دی وائر“نے کتاب میں مورخ ڈاکٹر رام چندر گوہا کے مضمون کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہاکہ مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ بہت اچھے، راست باز مردوں اور عورتوں میں شامل ہیں جن کو پولیس نے مشکوک الزامات پرجلد بازی میں اپنے سیاسی آقاو ں کے حکم پر جیل میں بند کردیاہے۔

(جاری ہے)

ان میں سے کچھ اسکالر اور محقق بھی ہیں اوردوسرے سماجی کارکن اور سول سوسائٹی کے کارکن ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اور کام میں خود کو عدم تشدد اور بھارتی آئین کی بنیادی اقدارکا پابندثابت کیا ہے۔

یہ کوئی اورچیز نہیں بلکہ تکثیریت اور جمہوریت سے ان کی وابستگی ہے جس نے انہیں حکومت کے آمرانہ اور اکثریت پسندی کا شکاربنادیا۔رپورٹ میں ناول نگار میلان کنڈیرا کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے کہاہے کہ بھارتی ریاست جیلوں کو محض قید کے ادارے کے طور پر نہیں بلکہ عوامی ضمیر کو مٹانے والے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے ،سیاسی جدوجہد کو غیر قانونی قرار دینے اور، سچ بولنے والوں کو بند کرکے ہماری عوامی یادداشت سے اختلاف اور مزاحمت کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

اپنی 2016 کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی تقریر میں جس کا حوالہ کتاب میں دیا گیا ہے، عمر خالد نے کہا تھا کہ وہ ہم سے ڈرتے ہیں،وہ ہماری جدوجہد سے ڈرتے ہیں اور وہ ہم سے ڈرتے ہیں کیونکہ ہم سوچتے ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ خرم پرویز جیسے سیاسی قیدیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والاسلوک نئی دہلی کی جانب سے علاقے اور بھارت میں اختلاف رائے کو دبانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔