ملک حنیف کے قتل کے خلاف ملک برادری رابطہ کمیٹی ہنگامی اجلاس

ملک حنیف کے قاتلوں کی گرفتاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، انجینئرملک عبدالغفار سعیدی

منگل 5 مئی 2026 22:08

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) ملک برادری رابطہ کمیٹی کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کراچی کی مختلف سماجی و تنظیمی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں گھوٹکی کے علاقے میں پیش آنے والے افسوسناک اور دلخراش واقعے پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ چند روز قبل ملک محمد حنیف کو ان کے گھر رونتی سے مبینہ طور پر بلا کر گھوٹکی بلایا گیا، جہاں انہیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

شرکاء کے مطابق اطلاعات یہ بھی ہیں کہ مقتول پر تقریباً 40 لاکھ روپے واجب الادا تھے، جن کی ادائیگی کے بہانے انہیں وہاں طلب کیا گیا، تاہم بعد ازاں انہیں مبینہ طور پر کاروکاری کا جھوٹا الزام لگا کر قتل کیا گیا، جو کہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت عمل ہے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر مقتول کا ایک زخمی حالت میں ویڈیو بیان بھی موجود ہے، جس میں انہوں نے مبینہ طور پر اپنے قاتلوں کے نام واضح طور پر بتائے ہیں، اس کے باوجود تاحال کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی، جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔

شرکاء نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، نامزد ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور شفاف و غیر جانبدار تحقیقات کے ذریعے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔اجلاس میں مقررین نے کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف قانون کی عملداری پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ معاشرے میں خوف و بے چینی بھی پیدا کرتے ہیں، لہٰذا حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری اور مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔

اس موقع پر مختلف رہنماؤں جن میں انجینئر ملک عبدالغفار سعیدی، ملک محمد حنیف محمدی، ملک عمر جازم، ملک حاجی محمد اختر، ملک محمد رمضان، ڈاکٹر محمد ارشد اسلم، ملک بابو شیر علی، ملک محمد حاجی، ملک محمد جہانگیر، ملک قدیر ایڈووکیٹ سمیت دیگر شامل تھے، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا۔اجلاس کے اختتام پر ملک برادری کراچی کی 7 رکنی رابطہ کمیٹی کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جو اس کیس کی پیروی کرے گی، متاثرہ خاندان سے رابطے میں رہے گی اور قانونی و سماجی سطح پر بھرپور کردار ادا کرے گی تاکہ انصاف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔

دریں اثناء جمعیت علمائے پاکستان کے سینئر رہنما ملک محمد شکیل قاسمی نے رونتی کے نوجوان ملک حنیف کے بہیمانہ قتل پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ سندھ میں قانون کی کمزوری اور جرائم پیشہ عناصر کی بے خوفی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق مقتول کو کاروباری لین دین اور رقم کے تنازع پر گھوٹکی بلایا گیا، جہاں اسے قتل کرنے کے بعد واقعے کو کاروکاری کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

مقامی رپورٹس اور خاندان کے دعووں میں بھی مالی تنازع کو اصل سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ملک محمد شکیل قاسمی نے کہا کہ مقتول کی آخری گفتگو سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے واجبات کے حصول کے لیے ملزم سے رابطے میں تھا اور اسی سلسلے میں وہاں گیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں، ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور کاروکاری کے نام پر قتل جیسے سنگین جرائم کا راستہ روکا جائے۔