نوشہرہ ،شیخ الحدیث مولانا ادریس کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ، مظاہرین کا ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

منگل 5 مئی 2026 20:59

نوشہرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) جید عالم دین اور جمعیت علماء اسلام خیبرپختونخوا کے صوبائی سرپرست اعلیٰ شیخ الحدیث حضرت مولانا ادریس کی چارسدہ میں ٹارگٹ کلنگ کے دوران المناک شہادت کے خلاف نوشہرہ کی سیاسی، سماجی، مذہبی اور تاجر برادری نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے کئی گھنٹے شوبرا چوک پر روڈ بلاک کر کے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی مظاہرے کی قیادت جمعیت علماء اسلام خیبرپختونخوا کی صوبائی مجلس شوری کے رکن اور سابق ناظم مفتی حاکم علی حقانی، قاری ظہور احمد، فضل اکبر باچا، مولانا عمران اللہ حقانی، افتخار احمد خان اور جمعیت علماء پاکستان کے رہنما مولانا فضل غنی نے کی۔ہزاروں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مفتی حاکم علی حقانی نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے شیخ الحدیث مولانا ادریس کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت زبان درازی کی جارہی تھی، لیکن ریاستی اور سرکاری اداروں نے ان کی حفاظت یقینی نہیں بنائی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اور وہاں کے طلبا و مدرسین محفوظ نہیں ہیں اور علما کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ اپنے اکابرین کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں۔مفتی حاکم علی حقانی نے واضح کیا کہ وہ قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے، لیکن اگر صورتحال یوں ہی رہی تو مجبوراً اپنے اور اپنے اکابرین کے تحفظ کیلئے مضبوط لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔ انہوں نے پولیس، تحقیقاتی اداروں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ شیخ الحدیث مولانا ادریس کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔