پاک بنگلہ دیش،سرکاری سطح پراہم پیشرفت، نیپاکراچی میں بنگلہ دیشی سول سروسزکے وفد کا پہلا تاریخی دورہ

دورہ باہمی سفارتی وانتظامی تعلقات کونئی جہت دیگا،خطے میں مشترکہ ترقی، امن اور پائیدار حکمرانی کیلئے موثر ہوگا،ڈی جی نیپا سیف الرحمان

جمعرات 7 مئی 2026 00:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سرکاری سطح پر ادارہ جاتی روابط کے فروغ کی جانب اہم اور تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا)کراچی میں بنگلہ دیش کی سول سروس کے وفد نے پہلا تاریخی دورہ کیا ہے جو دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیشی افسران نے دو روزہ ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ پروگرام میں شرکت کی۔ اس اہم اور منفرد دورے کو دونوں ممالک کے درمیان پالیسی تعاون، جدید طرز حکمرانی اور پیشہ ورانہ تربیت کے تبادلے کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ پروگرام سول سروسز اکیڈمی لاہور اور نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کے اشتراک سے اسٹریٹجک لیڈرشپ، گورننس سسٹمز اور پالیسی انوویشن کے موضوع پر منعقد ہوا جس میں بنگلہ دیش کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

وفد کی قیادت جوائنٹ سیکریٹری وزارتِ پبلک ایڈمنسٹریشن ایم ڈی ریحان اختر نے کی جبکہ اراکین میں سلمی صدیقہ، محمد مصطفی جمال حیدر، ایم ڈی ابو ریحان میاں سمیت دیگر افسران شامل تھے۔ ڈی جی نیپا ڈاکٹر سید سیف الرحمان اور ریکٹر نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی و ڈی جی سول سروسز اکیڈمی لاہور فرحان عزیز خواجہ نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔

تقریب میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے قومی پرچم لہرائے گئے اور قومی ترانے پیش کیے گئے جبکہ پلانٹنگ فرینڈشپ کے عنوان سے شجرکاری کے ذریعے دوستی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار تعاون کا پیغام دیا گیا۔ پروگرام کے دوسرے روز مختلف نمایاں فلاحی، طبی اور تعلیمی اداروں نے وفد کو بریفنگز دیں جن میں دی سٹیزن فانڈیشن، سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن، انڈس ہسپتال، ڈاکٹر ضیاالدین ہسپتال اور اورنگی پائلٹ پراجیکٹ شامل تھے۔

اداروں کے نمائندگان نے کم لاگت اور پائیدار ماڈلز کے ذریعے عوامی خدمت کی عملی مثالیں پیش کیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈی جی نیپا ڈاکٹر سید سیف الرحمان نے کہا کہ پاکستان مثر، شفاف اور جدید گورننس کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ ایسے پروگرامز افسران کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا نادر موقع فراہم کرتے ہیں جس سے عوامی خدمت کے معیار میں بہتری آئیگی۔

بنگلہ دیشی وفد کے سربراہ ریحان اختر نے نیپا کراچی کے تربیتی نظام اور سہولیات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور پالیسی سطح پر ہم آہنگی بڑھے گی۔ تقریب سے سینیٹر جاوید جبار اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے بھی خطاب کیا اور گورننس، معاشی استحکام، پالیسی تسلسل اور ریاستی اصلاحات کی اہمیت پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ تقریب کے اختتام پر بنگلہ دیشی وفد کو شیلڈز اور یادگاری اسناد پیش کی گئیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پہلا تاریخی دورہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور انتظامی تعلقات کو نئی جہت دے گا بلکہ خطے میں مشترکہ ترقی، امن اور پائیدار حکمرانی کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔