پاکستان اور ترکیہ کا موسمیاتی تبدیلی، سیلابی خطرات اور آبی تحفظ کے شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

ہفتہ 9 مئی 2026 00:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 مئی2026ء) پاکستان اور ترکیہ نے موسمیاتی تبدیلی، سیلابی خطرات اور آبی تحفظ کے شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے رواں سال نومبر میں ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس ’’کاپ 31‘‘ سے قبل علاقائی اشتراک کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

جاری پریس ریلیز کے مطابق کاپ 31 کانفرنس میں عالمی ماحولیاتی وعدوں پر عملدرآمد، موسمیاتی موافقت کے لیے مالی معاونت، موسمیاتی نقصانات سے متاثرہ ممالک کی مدد اور شدید موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر توجہ دی جائے گی۔ یہ اتفاق رائے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ میں اعلیٰ سطحی ترک وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کیا گیا۔

(جاری ہے)

ترک وفد، جسے ٹیکا نے سہولت فراہم کی، کی قیادت مارف آراس نے کی، جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی عائشہ ہمایوں موریانی نے کی۔ ملاقات میں سیلابی اور دریائی نظام کے مربوط انتظام، گلیشیئر اور برفانی تودوں کے خطرات، ابتدائی انتباہی نظام، صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ انفراسٹرکچر پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ عائشہ ہمایوں موریانی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب معیشت، روزگار اور قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔

مارف آراس نے پاکستان کو ماحولیاتی شعبے میں اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے موسمیاتی خطرات کا مؤثر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ وزارت کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا کہ دونوں ممالک نے کاپ 31 سے قبل موسمیاتی موافقت، آفات سے بچاؤ اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔