سندھ اسمبلی نے سندھ ڈیولپمنٹ اینڈ مینٹیننس آف انفرا اسٹرکچر سیس بل منظور کر لیا

جمعہ 8 مئی 2026 23:56

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) سندھ اسمبلی نے جمعہ کو اپنے اجلاس میں سندھ ڈیولپمنٹ اینڈ مینٹیننس آف انفرا اسٹرکچر سیس بل منظور کر لیا جبکہ بعض دوسرے مسودہ قوانین بھی ایوان میں پیش کردیئے گئے جنہیں مزید غور وغوض کے لئے متعلقہ مجلس قائمہ کے حوالے کردیا گیا ۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو پینل آف چیئرپرسن کی ریحانہ لغاری کی زیر صدارت شروع ہوا۔

ایوان کی کارروائی کے آغاز میں مختلف ارکان کی جانب گزشتہ برس معرکہ حق کے دوران شہید ہونے والے پاک فوج کے شہداکو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لئے فاتحہ خوانی کی درخواست کی گئی ۔ جمعہ کو ایجنڈے میں وقفہ سوالات نہیں رکھا گیا تھا۔ایوان کی کارروائی کے دوران ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی کی جانب سے ایک تحریک التوا پیش کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ کراچی میںٹریفک سگنلز پر بھکاریوں کی بھرمار ہے ، ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔

(جاری ہے)

وزیر قانون و پارلیمانی امورضیاالحسن لنجار نے تحریک التوا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوری اہمیت کاحامل مسئلہ نہیں ہے۔چیئرپرسن نے تحریک التوا کو مسترد کردیا۔کارروائی کے دوران وزیر قانون و پارلیمانی مور ضیا لنجار نے گورنر سندھ کی جانب سے منظور کردہ بل ایوان میں پڑھ کر سنائے۔ انہوں نے سندھ اسمبلی میں سندھ شاپس اینڈ کمرشیل اسٹبلشمنٹ ترمیمی بل پیش کیا جسے مزید غور کے لئے متعلق قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیاگیا۔

وزیر پارلیمانی امور نے سندھ ڈیولپمنٹ اینڈ مینٹیننس آف انفرا اسٹرکچر سیس بل بھی پیش کیا۔وزیر قانون ضیا الحسن لنجارکا کہنا تھا کہ یہ بل تاجر برادری کی وجہ سے پیش کیا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ کافی تاجر سیس دینے پر متفق ہوگئے ہیں۔ یہ معاملہ گزشتہ دو ماہ سے زیر التو تھا اب ہم دوبارہ اسے منظوری کے لئے ایوان میں پیش کررہے ہیں۔سندھ اسمبلی بل پیش ہونے کے وقت جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق مسلسل بولتے رہے، جس سے ایوان میں شور شرابہ محسوس ہوا لیکن وزیر قانون نے اس شور شرابے کی پرواہ کئے بغیر شق وار بل منظوری کے لئے پیش کیا بعدمیںسندھ اسمبلی نے سندھ ڈیولپمنٹ اینڈ مینٹیننس آف انفرا اسٹرکچر سیس بل منظور کر لیا۔

ایوان میں میں انسانی حقوق کے تحفظ کا بل بھی پیش کیا گیا۔وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن میں ججز کو بھی شامل کرنے کی پیشکش کرتے ہیں۔ بل میں ہم نے عمر کی حد بڑھائی ہے اورکمیشن میں سندھ اسمبلی کے ممبران تعداد دو سے بڑھا کر تین کردی ہے۔ کارروائی کے دوران وزیر قانون نیسندھ شاپس اینڈ کمرشیل اسٹبلشمنٹ ترمیمی بل بھی پیش جو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ ایوان کی مختصر سی کارروائی کے بعد اجلاس پیر کی دوپہر دوبجے تک ملتوی کردیا گیا۔