سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر کو 26 سال قبل سنائی جانے والی سزا ختم کردی

عدالت نے 20 جنوری 2016ء کو سنائے گئے اپنے ہی اکثریتی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، کسی بھی شخص کو ماضی کے قانون کے تحت زیادہ سخت سزا نہیں دی جا سکتی؛ فیصلے کا متن

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 14 مئی 2026 10:59

سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر کو 26 سال قبل سنائی جانے والی سزا ختم کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2026ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 26 سال قبل سنائی جانے والی سزا ختم کردی، عدالت نے ان کی سزا کالعدم قرار دے کر لاہور ہائیکورٹ کا بریت کا فیصلہ بحال کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی نظرثانی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے اس کیس میں 20 جنوری 2016ء کو سنائے گئے اپنے ہی اکثریتی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے، فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو ماضی کے قانون کے تحت زیادہ سخت سزا نہیں دی جا سکتی۔

بتایا گیا ہے کہ انور سیف اللہ خان پر بطور وزیر پیٹرولیم غیر قانونی تقرریاں کرنے کا الزام تھا، جس پر عدالت نے مشاہدات دیئے ہیں کہ تمام تقرریاں اوپن ریکارڈ اور محکمانہ روایات کے عین مطابق کی گئی تھیں، الزامات میں قانونی سقم پائے گئے جس کی بنیاد پر انہیں ریلیف دیا گیا، سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 12 ماضی کے اثر سے سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے، نیب آرڈیننس 1999ء کی سزائیں اس وقت کے موجودہ قوانین سے زیادہ سخت تھیں، اس لیے اس قانون کا اطلاق ماضی کے مقدمات پر کرنا غیر آئینی ہے۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 13 جون 2002 کو انور سیف اللہ خان کو بری کر دیا تھا، جسے اب سپریم کورٹ نے بحال کر دیا، انہیں 2000ء میں احتساب عدالت کی جانب سے سزا سنائی گئی تھی، جسے اب مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، اس فیصلے کو قانونی حلقوں میں آئینی حقوق اور آرٹیکل 12 کی بالادستی کے حوالے سے ایک اہم نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔