ہندو قوم پسند جماعت آر ایس ایس پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی حامی

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 14 مئی 2026 18:00

ہندو قوم پسند جماعت آر ایس ایس پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی حامی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 مئی 2026ء) ہندو شدت پسند جماعتوں اور نئی دہلی میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسبولے نے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ بھارت کو پلوامہ جیسے حملوں پر قومی سلامتی اور خود داری کے تحفظ کے لیے سخت جواب دینا چاہیے، لیکن ساتھ ہی مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہییں۔

آر ایس ایس کے اس سینئر رہنما نے کہا، ''اگر پاکستان پلوامہ جیسے واقعات کے ذریعے سوئی چبھونے کی کوشش کرتا ہے، تو ہمیں حالات کے مطابق مناسب جواب دینا ہو گا … لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں دروازے بند نہیں کرنا چاہییں۔

(جاری ہے)

ہمیں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘

حکمران بی جے پی کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے رہنما کا یہ بیان پلوامہ حملے کے بعد مودی کے اس بیان سے یکسر مختلف ہے، جس میں بھارتی وزیر اعظم نے کہا تھا، ''دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

‘‘

آپریشن سندور کے بعد قوم سے خطاب میں مودی نے حکومت کے سخت موقف کو دوہراتے ہوئے کہا تھا، ''دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ دہشت گردی اور تجارت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔‘‘

ہوسبولے نے دونوں ملکوں کے درمیان سول سوسائٹی کی سطح پر روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

اپوزیشن جماعتوں کا سخت ردعمل

بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے سوال اٹھایا ہے کہ اس بیان کا وقت اور مقصد کیا ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی بات اپوزیشن کی جانب سے کی جاتی تو انہیں ''غیر ملکی ایجنڈا چلانے والے‘‘ یا ''غیر محب وطن‘‘ قرار دے دیا جاتا۔

بعض اپوزیشن رہنماؤں نے اس بیان کے پیچھے ممکنہ امریکی دباؤ کی طرف بھی اشارہ کیا۔

ان کا اشارہ آر ایس ایس رہنما کے امریکہ اور برطانیہ کے حالیہ دوروں کی طرف تھا، جو آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں کیے گئے تھے۔

کانگریس کے ابلاغی امور کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ ممکن ہے کہ حالیہ دورہ امریکہ نے دتاتریہ ہوسبولے اور آر ایس ایس دونوں کو متاثر کیا ہو۔ انہوں نے یہ پرانا الزام بھی دوہرایا کہ حکومت امریکی مفادات کے سامنے جھک جاتی ہے۔

کانگریس کے سینئر رہنما منیش تیواڑی نے سوال کیا کہ کیا پاکستان نے اس بات کا کوئی اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے سابقہ وعدوں کی پاسداری کرے گا، جن میں اس کے وزرائے اعظم اور فوجی قیادت کی جانب سے یہ یقین دہانی شامل تھی کہ پاکستان دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال نہیں کرے گا؟

کشمیری رہنماؤں نے بیان کی حمایت کی

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کے رہنماؤں نے آر ایس ایس رہنما کے بیان کی تائید کی ہے۔

جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہوسبولے کے بیانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے ذریعے دیرپا امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ بیان ایک مثبت تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس سے مسائل کو محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا رجحان ظاہر ہوتا ہے۔

جموں و کشمیر کی ایک اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کی ان کی جماعت کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ جموں و کشمیر میں مستقل امن کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا یہ قول یاد دلایا، ''دوست بدلے جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں۔‘‘

بھارت کے سابق آرمی چیف نے بھی بیان کی تائید کی

بھارت کے سابق آرمی چیف منوج نروانے نے بھی آر ایس ایس رہنما کے اس موقف کی تائید کی کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ممبئی میں بدھ کو اپنی کتاب پر دستخط کرنے کی تقریب کے دوران انہوں نے کہا کہ دونوں طرف کے عوام کے درمیان رابطے اور تعلقات بہتر بنانے سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، ''سرحد کے دونوں طرف عام لوگ رہتے ہیں جن کے مسائل ایک جیسے ہیں۔ روٹی، کپڑا اور مکان۔ عام آدمی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جب عوام کے درمیان دوستی ہوتی ہے تو ممالک کے درمیان بھی بہتر تعلقات قائم ہوتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر رابطے ہونا چاہییں، چاہے وہ 'ٹریک ٹو‘ سفارت کاری کے ذریعے ہوں یا کھیلوں کے مقابلوں کے ذریعے۔

ادارت: مقبول ملک