حکومت بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے طلبہ کے لیے مختص میڈیکل نشستوں کے مسئلے کا مستقل حل نکالنے پر کام کر رہی ہے، مصطفیٰ کمال

جمعہ 15 مئی 2026 12:42

حکومت بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے طلبہ کے لیے مختص میڈیکل نشستوں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 مئی2026ء) وفاقی وزیر برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری مصطفیٰ کمال نے سینیٹ کو بتایا گیا کہ حکومت بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے طلبہ کے لیے مختص میڈیکل نشستوں کے مسئلے کا مستقل حل نکالنے پر کام کر رہی ہے تاکہ ہر سال پیدا ہونے والی مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔جمعہ کو ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طویل المدتی نظام نہ ہونے کے باعث یہ مسئلہ بار بار سامنے آتا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2017-18 اور 2018-19 میں 194 نشستیں مختص کی گئی تھیں، جبکہ 2019 سے 2023 تک کوئی نشست فراہم نہیں کی گئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بعد ازاں 2023-24 میں 333 نشستیں مختص کی گئیں اور موجودہ حکومت نے 2024-25 میں بھی یہی تعداد برقرار رکھی۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچا، جس نے ایک سال کے لیے 194 نشستیں فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بعد میں حکومت نے مستقل بنیادوں پر حل کے لیے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں 333 نشستیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ دونوں صوبوں کے طلبہ کو ہر سال اسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ وزارت صحت اور پاکستان میڈیکل ڈینٹل کونسل نے متعدد بار دونوں صوبوں کی حکومتوں، کالجوں اور جامعات کو خطوط ارسال کیے تاکہ ضروری اجازت نامے حاصل کر کے نشستوں کو مستقل بنیادوں پر باقاعدہ بنایا جا سکے، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبائی حکام نے اس معاملے میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں دکھائی۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت دونوں صوبوں کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے اور معائنوں کے عمل کو تیز کرنے سمیت تمام ضروری تقاضے پورے کیے جائیں گے تاکہ نشستوں کی باضابطہ منظوری ممکن ہو سکے اور طلبہ کو آئندہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے طلبہ کے وسیع تر مفاد اور ان کے تعلیمی نقصان سے بچانے کے لیے ایک وقتی اقدامات بھی کیے، جنہیں پارلیمنٹ ارکان اور متاثرہ خاندانوں نے سراہا۔