Live Updates

خیبرپختونخوا کے عوام کو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی جا رہی ہے

ضم اضلاع کے حقوق اور ترقیاتی فنڈز روکے جا رہے ہیں، رواں مالی سال میں مختص فنڈز میں 12 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے، دہشتگردی کیخلاف فرنٹ لائن صوبہ کے وسائل کم کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 4 جون 2026 19:36

خیبرپختونخوا کے عوام کو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی جا رہی ..
پشاور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 04 جون 2026ء ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا ہے اور صوبائی حکومت بھی اسی عوامی اعتماد کی بنیاد پر قائم ہے۔

بجٹ کو عمران خان کے وژن کے مطابق ترتیب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ عدالتوں کی جانب سے ہفتہ وار ملاقاتوں کی اجازت کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ عدالتوں سے اپیل ہے کہ اس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے ملاقات کا راستہ ہموار کیا جائے۔ حکمرانوں کو سیاسی انتقام کے بجائے معیشت کی بہتری، مہنگائی کے خاتمے، برآمدات میں اضافے، صنعت و زراعت کے فروغ اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔

(جاری ہے)

ملکی قرضے، تجارتی خسارہ، مہنگائی اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ عوام کو قرضوں کے استعمال کے ثمرات نظر نہیں آ رہے۔ لاکھوں خاندان معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک اس طرح نہیں چل سکتا۔ عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ ان کا لیڈر، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کون ہوگا۔ زبردستی فیصلے مسلط کیے گئے تو مسائل مزید بڑھیں گے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔

ضم اضلاع کے حقوق اور ترقیاتی فنڈز روکے جا رہے ہیں جبکہ این ایف سی میں بھی صوبے کا مکمل حق نہیں دیا جا رہا۔ رواں مالی سال میں ضم اضلاع کے لیے مختص فنڈز میں 12 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی۔ دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن صوبہ ہونے کے باوجود خیبرپختونخوا کے وسائل کم کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔

گزشتہ چھ برسوں کے دوران صوبائی حکومت پولیس کی استعداد بڑھانے اور امن و امان کے قیام کے لیے 30 ارب روپے سے زائد خرچ کر چکی ہے۔ صوبے میں اہم ڈیم منصوبے تیار ہیں لیکن غیر ملکی انجینئرز کے دوروں کے لیے این او سی جاری نہیں کی جا رہی، جس سے ترقیاتی عمل متاثر ہو رہا ہے۔ عدالتوں سے ایک بار پھر اپیل ہے کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ ساڑھے چار کروڑ عوام کی مؤثر نمائندگی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مشاورت ممکن ہو سکے۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات