Live Updates

ریاستی رازوں تک پہنچنے کے لیے چینی جاسوس بطور ریکروٹرز، ’فائیو آئیز‘ کی وارننگ

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 4 جون 2026 19:20

ریاستی رازوں تک پہنچنے کے لیے چینی جاسوس بطور ریکروٹرز، ’فائیو آئیز‘ ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 جون 2026ء) برطانیہ کے دارالحکومت لندن سے جمعرات چار جون کو موصولہ رپورٹوں میں یہ بات ایک ایسی تنبیہ کے حوالے سے کہی گئی ہے، جو پانچ مغربی ممالک برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خفیہ اداروں کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں بدھ کو رات گئے کی گئی۔

ان پانچوں مغربی ممالک کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے خفیہ ادارے آپس میں مل کر کام کرتے ہیں اور اسی لیے ان پانچوں ریاستوں کی سیکرٹ سروسز کو اجتماعی طور پر 'فائیو آئیز‘ یا 'پانچ آنکھیں‘ نامی اتحاد کا نام دیا جاتا ہے۔

آذربائیجان: فرانسیسی شہری کو جاسوسی کے الزام میں دس برس قید

'فائیو آئیز‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ تنبیہی بیان میں کہا گیا کہ اس طریقہ کار کے دوران چین کی ملٹری انٹیلیجنس سروسز کی طرف سے 'لِنکڈ اِن‘ یا اس جیسے دیگر انٹرنیشنل پروفیشنل پلیٹ فارمز پر ایسی جعلی ملازمتوں کے جھوٹے اشتہارات شائع کیے جاتے ہیں، جن میں کہا جاتا ہے کہ اشتہار شائع کرنے والے ادارے کو خارجہ پالیسی یا دفاعی تجزیہ کاروں کی تلاش ہے۔

(جاری ہے)

بظاہر اصلی نظر آنے والے نجی مشاورتی ادارے

'فائیو آئیز‘ کے بیان کے مطابق پروفیشنل ماہرین کے بڑے بڑے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ایسے اشتہارات اور ماہرین کی ضرورت کے نوٹس پوسٹ کرنے والے ایجنٹ خود کو عموماﹰ افرادی قوت کے شعبے میں کسی مشاورتی ادارے کے کارکن ظاہر کرتے ہیں۔

مشترکہ بیان کے مطابق ایسے اشتہارات میں ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 'بظاہر قانونی دکھائی دینے والی‘ یہ پرائیویٹ کنسلٹنسی فرمیں یا تھنک ٹینکس ایسے ادارے ہیں، جو چین سے باہر رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔

مغربی ٹیکنالوجی کی مدد سے روس کا آرکٹک میں دفاعی جاسوسی نظام

'پانچ آنکھیں‘ نامی مغربی انٹیلیجنس الائنس نے اپنے بیان میں مزید کہا، ''ابتدائی رابطوں کے بعد امیدواروں پر دباؤ ڈال کر انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ انٹرویو کے دوران ایسی معلومات کا انکشاف بھی کریں، جو پہلے سے پبلک نہ ہوں۔

اس دوران متعلقہ امیدواروں سے ایک تحریری رپورٹ جمع کرانے کے لیے بھی کہا جاتا ہے۔‘‘

نشانہ کن شخصیات کو بنایا جاتا ہے؟

'فائیو آئیز‘ کے مشترکہ بیان کے مطابق چین کی ملٹری انٹیلیجنس سروسز کی طرف سے جن ماہر شخصیات کو خاص طور پر ایسی ڈیجیٹل چالبازیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے، ان میں باقاعدہ سکیورٹی کلیئرنس سے گزر چکے افراد، فوجی اہلکار، صحافی اور ماہرین تعلیم تک بھی شامل ہوتے ہیں۔

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے بیس مبینہ جاسوس گرفتار، ایران کا سخت انتباہ

''اس دوران فوجی اہلکاروں سے جو سوالات پوچھے جاتے ہیں، ان میں ایسی تفصیلات بھی شامل ہو سکتی ہیں کہ مثلاﹰ فوج میں ان کا کردار اور عہدہ کیا تھے، ان کے یونٹ کی سرگرمیاں کیا تھیں، یا پھر ان کی ہوم بیس یا بحری اڈہ کون سا تھا۔‘‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس پورے عمل کے دوران جن افراد سے ریکروٹنگ کے لیے رابطے ہو جاتے ہیں، انہیں ریکروٹس کے طور پر فی رپورٹ کئی سو ڈالر سے لے کر کئی ہزار ڈالرتک کی رقم بھی ادا کی جاتی ہے۔

جرمنی: ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں ڈنمارک کا شہری گرفتار

''رقم کی مالیت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ متعلقہ ریکروٹ کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں شامل حساس معلومات کتنی کم یا زیادہ ہیں۔‘‘

حالیہ برسوں میں بہت بڑھ چکا جاسوسی کا خطرہ

مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے حالیہ برسوں میں بار بار یہ وارننگ کی جا چکی ہے کہ چین، روس اور ایران کی طرف سے جاسوسی کے خطرات گزشتہ چند برسوں کے دوران بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔

اس کا ایک ثبوت یہ بی ہے کہ ابھی گزشتہ مہینے ہی چین اور برطانیہ کی دوہری شہریتیں رکھنے والے دو افراد کو لندن کی ایک عدالت کی جیوری نے مجرم قرار دے دیا تھا۔

بھارتی بحریہ کا اہلکار پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار

ان چینی نژاد برطانوی شہریوں پر الزام تھا کہ وہ بیجنگ حکومت کے لیے ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے اور برطانیہ میں مقیم سیاسی منحرفین کی جاسوسی کر رہے تھے۔

ان ملزمان کو مجرم قرار دیا جا چکا ہے اور اس وقت وہ دونوں اپنے خلاف سزائیں سنائے جانے کے منتظر ہیں۔

ادارت: جاوید اختر

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات