کراچی کوئی کالونی نہیں کہ اسکو وفاق کو دے دو،کراچی صوبہ نہیں بلکہ جنوبی سندھ صوبہ چاہیے، آفاق احمد

مہاجر ہماری پہچان ہے۔صوبے کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، اورنگی ٹائون میں عوامی جلسہ سے خطاب کٹ کر رہ گا ہندوستان بن کر رہ گا پاکستان۔یہ تحریک پنجاب ، کے پی میں نہیں ہندوستان میں چلی تھی ۔یہ پاکستان میناروں کی قربانیوں کا ثمر تھا

اتوار 14 جون 2026 17:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جون2026ء) مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا ہے کہ کراچی کوئی کالونی نہیں کہ اسکو وفاق کو دے دو،کراچی صوبہ نہیں بلکہ جنوبی سندھ صوبہ چاہیے۔مہاجر ہماری پہچان ہے۔صوبے کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔وہ ہفتہ کی شب اورنگی ٹاون میں عوامی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔جلسہ میں عوام اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

آفاق احمد نے کہا کہ کٹ کر رہ گا ہندوستان بن کر رہ گا پاکستان۔یہ تحریک پنجاب ، کے پی میں نہیں ہندوستان میں چلی تھی ۔یہ پاکستان میناروں کی قربانیوں کا ثمر تھا ۔۔ہم مہاجرین پاکستان بنا کر اس لیے یہاں آئے تھے کہ یہاں مسلمان ہوں گے۔۔لیکن یہاں آنے سے پہلے ہی یہاں قومیں بنی ہوئی تھی ۔یہ مہاجر ہی ہے جو اس ملک کو چلا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ہم نے چلا کر دکھایا ہے اس پاکستان کو اس لیے نہیں بنایا تھا کہ یہاں لٹیروں ، چوروں ، آمروں کی حکومت ہوگی ۔

ہم نہیں جانتے تھے کہ یہاں شریفوں اور زرداریوں کی حکومت ہوگی۔ہمیں خلیفہ دوم عمر فاروق جیسا حکمرانی کا نظام چاہییبرصغیر کے دس کروڑ لوگوں کے لیے الگ وطن بنایا تھا۔آفاق احمد جنوبی سندھ صوبے کی بات کرتا ہے ۔جہاں اقتدار میں شراکت ہو ، جہاں انکو تمام وسائل و اختیار ہوں ۔ہمیں صوبہ چاہیے لیکن کراچی صوبہ نہیں بلکہ جنوبی سندھ صوبہ چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ بھٹو نے جو دیہہ اور شہری لکیر کھینچی تھی اسکے مطابق ہمیں جنوبی سندھ صوبہ چاہیے ۔کراچی کوئی کالونی نہیں کہ اسکو وفاق کو دے دو ۔اگر کراچی کو پورا گن لیتے تو آج دیہی علاقوں کی عوام اقلیت میں ہوتے اور وہ اپنی حکومت بنا ہی نہیں سکتے تھے ۔وفاق نے کیوں نہیں ہمیں پورا گنا ہے۔آفاق احمد نے کہا کہ سندھ کے حکمرانوں نے شہری عوام کو ہر چیز سے محروم رکھا ہے ۔

سندھ سیکریٹریٹ چلے جائیے تو آپ کو سب سندھی ملیں گے کیا اردو بولنے والے سرکاری نوکری کے قابل نہیں سندھ تو کیا وفاق نے بھی شہری عوام کو نوکریاں نہیں دی ہیں۔انہوں مہاجروں کو صرف بارگینگ چپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔مہاجر قوم باشعور ہے ۔کراچی کو مہاجر صوبہ بناکر ہم سندھ کے دیگر شہروں کے مہاجروں تنہا کردیں گے۔ہم مہاجر صوبے کی بات نہیں کریں گے ۔

پاکستان مہاجر قوم کی قربانیوں کا ثمر ہے لیکن یہاں پہلے سے بسنے والے لوگوں نے ہمیں تسلیم نہیں کیا۔مہاجر قوم پہلے دو بار تقسیم ہوچکی ہے ۔اب کراچی بناکر پھر پھر مہاجر کو تقسیم کرنے کی کوشش ہوگی ۔اگر صوبہ بنانا ہے تو اربن اور رولر سندھ کی بنیاد پر بنایا جائے ۔اربن سندھ مہاجر صوبہ ہو ۔اگر سندھ حکومت ہمارے ساتھ سنجیدہ نہیں تو وفاق بھی ہمارے ساتھ سنجیدہ نہیں ہے۔اس بات پر دوریاں نہیں کریں کہ یہ آفاق کا ہے وہ الطاف ، خالد مقبول یا مصطفی کمال کا ہے ۔مہاجر ہماری پہچان ہے ۔بنگلہ دیش میں محصورین پاکستان آج بھی یہاں آنے کے خواہش مند ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔