کراچی کو نظر انداز کرنا پاکستان کی معیشت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، ڈاکٹر عشرت العباد خان
ایم کیو ایم 140-A، بلدیاتی اختیارات اور 28ویں آئینی ترمیم کے وعدوں پر عملدرآمد کرائے، ڈاکٹر عشرت العباد وفاقی بجٹ 2026-27 عوام دوست نہیں، مزدور کی کم از کم اجرت 65 ہزار اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے
اتوار 14 جون 2026 20:50
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ کراچی کے لیے 25 ارب روپے کے مطالبات کے باوجود صرف محدود فنڈز دینا شہر کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ وفاقی بجٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ ہے، جبکہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے عملی اور مثر اقدامات درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی موجودہ شرح کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہ کرنا اور مزدور طبقے کو ریلیف نہ دینا تشویشناک ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم ماہانہ اجرت 65 ہزار روپے مقرر کی جائے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے اپیل کی کہ وہ ماضی کی طرح ملازمین کو ریلیف دلانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ ایم کیو ایم نے جن وعدوں اور نعروں کی بنیاد پر عوام سے ووٹ حاصل کیے تھے، ان پر عملدرآمد کروانا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ 140-A کے مکمل نفاذ، بلدیاتی اختیارات کی منتقلی، انتظامی اصلاحات اور شہری سندھ کے حقوق کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف اقتدار میں شامل ہونا کافی نہیں بلکہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنا بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان اور دیگر سیاسی معاملات کے ساتھ کراچی اور حیدرآباد کے عوامی مسائل پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ شہری سندھ کو مسلسل نظر انداز کرنا مناسب نہیں اور نہ ہی ترقیاتی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم قابل قبول ہے۔ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد کراچی کو متعدد انتظامی اور مالی مشکلات کا سامنا ہے جن کے حل کے لیے سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو ہمیشہ وفاقی فنڈز، خصوصی توجہ اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ترقی ملی اور آج بھی اسی طرز کی سوچ کی ضرورت ہے۔انہوں نے میڈیا انڈسٹری میں جاری ڈان سائزنگ، صحافیوں کو درپیش مسائل اور اظہارِ رائے پر دبا کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی آواز دبانا بند کیا جائے۔ حقائق بیان کرنے والوں اور عوامی مسائل اجاگر کرنے والوں کو نوٹسز اور دبا کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ ایم پی پی احتجاج برائے احتجاج کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، تاہم عوامی حقوق، انصاف اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی مسائل کو مسلسل نظر انداز کرنے سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم پی پی کا نظریہ "پہلے ریاست، بعد میں سیاست" ہے اور پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی کہ سرکاری و نجی اداروں، ٹانز اور یونین کونسلز کی سطح پر تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال بنایا جائے اور عوامی خدمت کا دائرہ وسیع کیا جائے۔اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ ایم پی پی جلد ملک گیر سیاسی حکمت عملی، تنظیمی توسیع، عوامی رابطہ مہم اور قومی مسائل کے حل کے لیے جامع لائحہ عمل کا اعلان کرے گی تاکہ پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست بنانے میں اپنا مثر کردار ادا کیا جا سکے۔مزید اہم خبریں
-
اوجھل بحران: یمنی خواتین خانہ جنگی اور امدادی کٹوتیوں سے بری طرح متاثر
-
لبنان پر تازہ اسرائیلی حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور قابل مذمت، گوتیرش
-
کڑا وقت: ایڈز کے خلاف کامیابیوں کو امدادی کٹوتیوں سے خطرہ
-
سربراہ سی سی ڈی ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ خود چکوال پہنچ گئے
-
اسرائیلی حملے نے امریکہ ایران معاہدے پر دستخط کی تقریب میں چند گھنٹوں کی تاخیر کردی، ٹرمپ
-
چکوال واقعہ پر سی سی ڈی نے مؤقف جاری کردیا
-
صادق آباد ریلوے اسٹیشن پر ہزارہ ایکسپریس کی بوگی میں اچانک آگ لگ گئی، مسافروں میں بھگدڑ
-
کانگریس اراکین نے ٹرمپ کی مجوزہ ڈیل کو خوفناک کہہ دیا
-
ایران کو نظرانداز کرکے علاقائی سلامتی ممکن نہیں،عباس عراقچی
-
ایرانی عہدیدار نے مفاہمتی یادداشت کے حتمی مسودے کے نکات بتا دیے
-
جعلی ڈرائیونگ لائسنس پر سعودی عرب جانے کی کوشش ناکام، مسافر آف لوڈ
-
بیروت پر آج اسرائیلی حملہ کسی صورت نہیں ہونا چاہیے تھا، ٹرمپ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.