چیئرمین سید وقار مہدی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور تحاریک استحقاق کا اجلاس

پیر 29 جون 2026 20:43

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 جون2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور تحاریک استحقاق کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سید وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکٹر آئی-10 میں واقع مکان کی سی ڈی اے فائل گم ہونے، پی آئی اے کے فضائی عملے کے مبینہ نامناسب رویے، ڈپٹی کمشنر چکوال کا ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ مبینہ غیر مناسب طرزِ عمل، وفاقی وزیر برائے مواصلات کے رویے اور آر پی او ملاکنڈ و ڈی پی او اپر چترال کے خلاف استحقاق کی تحریکوں پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں سینیٹر اسد قاسم، سینیٹر جان محمد، سینیٹر دوست علی جیسر، سینیٹر عطا الرحمٰن، سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان، سینیٹر سعدیہ عباسی اور تحریک استحقاق کے محرک سینیٹر بلال احمد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس کے آغاز میں کمیٹی کے چیئرمین اور اراکین نے کراچی رینجرز ہیڈکوارٹر پر حالیہ دہشت گرد حملے میں پاکستان رینجرز کے شہداء، بلوچستان میں ائیرپورٹس سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے شہید افسر اور وطن کے دیگر شہداء کی عظیم قربانیوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا، فاتحہ خوانی کی اور شہداء کے درجات کی بلندی کی دعا کی۔

کمیٹی نے سیکٹر آئی-10/4 اسلام آباد کے مکان نمبر 622 کی سی ڈی اے ریکارڈ سے گمشدہ فائل کا معاملہ زیر غور لایا۔ کمیٹی نے چیئرمین سی ڈی اے اور ادارے کے سینئر قانونی افسران کی عدم موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ عدالتی فیصلوں پر بلا تاخیر عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہئے اور سی ڈی اے کو اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

سی ڈی اے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا اختیار سی ڈی اے بورڈ کے پاس ہے اور یہ معاملہ آئندہ بورڈ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ کمیٹی نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ دو ہفتوں کے اندر معاملے کا فیصلہ کرکے جامع عملدرآمد رپورٹ پیش کی جائے۔چیئرمین کمیٹی نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اہلکاروں کی بدعنوانی یا غفلت کا بوجھ جائیداد مالکان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

کمیٹی نے سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی درخواست پر وفاقی وزیر برائے مواصلات کے خلاف تحریک استحقاق پر غور مؤخر کر دیا۔کمیٹی نے سینیٹر بلال احمد کی جانب سے کوئٹہ سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے پرواز میں فضائی عملے کے مبینہ نامناسب رویے سے متعلق تحریک استحقاق کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات پر وزارتِ دفاع کو سراہا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی آئی اے میں خوش اخلاقی اور پیشہ وارانہ رویہ عوامی اعتماد کی بحالی اور ادارے کی ساکھ بہتر بنانے کے لئے ناگزیر ہے۔کمیٹی نے سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی جانب سے ڈپٹی کمشنر چکوال کے مبینہ غیر مناسب رویے، ٹیلی فون کالز منقطع کرنے اور دیگر معاملات سے متعلق تحریک استحقاق پر بھی غور کیا۔ اجلاس کے دوران نائب تحصیلدار کی گرفتاری اور ایک سینئر و معمر سابق خاتون رکنِ پارلیمان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی مبینہ کوششوں سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔

سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان نے مطالبہ کیا کہ خواتین ارکانِ پارلیمنٹ اور سینئر خواتین سیاسی رہنماؤں کے وقار اور احترام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی نے بیوروکریسی اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کے لئے پارلیمان، پارلیمانی کمیٹیوں اور ان کی آئینی ذمہ داریوں سے متعلق خصوصی تربیتی پروگرام متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ڈپٹی کمشنر چکوال نے اپنے رویے پر کمیٹی کے سامنے غیر مشروط معذرت کی اور پارلیمان اور اس کے اراکین کے لئے مکمل احترام کا اظہار کیا۔

محرک کی جانب سے معذرت قبول کئے جانے کے بعد کمیٹی نے تحریک استحقاق نمٹا دی۔ چیئرمین کمیٹی نے سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کے فراخدلانہ طرزِ عمل کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نائب تحصیلدار کے خلاف درج ایف آئی آرز کے مدعیان کا مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سینئر و معمر سابق خاتون رکنِ پارلیمان کو اس معاملے میں ملوث کرنے کے پیچھے کوئی سیاسی بدنیتی یا ذاتی مفاد تو کارفرما نہیں تھا۔

کمیٹی نے سینیٹر محمد طلحہ محمود کی جانب سے تحریک استحقاق واپس لئے جانے پر آر پی او مالاکنڈ اور ڈی پی او اپر چترال کے خلاف مبینہ نامناسب رویے سے متعلق تحریک استحقاق بھی نمٹا دی۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین سی ڈی اے کو آئندہ اجلاسوں میں ذاتی حیثیت میں شرکت کی ہدایت کی اور پارلیمنٹ لاجز کی خستہ حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سی ڈی اے کو فوری طور پر لاجز کی مرمت اور دیکھ بھال کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز کی موجودہ حالت ادارے کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔