کراچی میں پکنک پر جانے والی فیملی کو تیز رفتار ٹرک نے کچل دیا

30 سالہ خاتون موقع پر جاں بحق، شوہر اور 3 بچے زخمی؛ رواں سال ٹریفک حادثات میں 295 شہری جان کی بازی ہار گئے

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 2 جولائی 2026 16:14

کراچی میں پکنک پر جانے والی فیملی کو تیز رفتار ٹرک نے کچل دیا
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جولائی 2026ء) سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں سپر ہائی وے پر الآصف اسکوائر کے قریب تیز رفتار ٹرک نے پکنک پر جانے والی فیملی کی موٹر سائیکل کو پیچھے سے ہولناک ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں 30 سالہ خاتون موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی، اس کا شوہر اور 3 معصوم بچے شدید زخمی ہو گئے، پولیس نے ٹرک ڈرائیور کو گرفتار کرکے گاڑی ضبط کرلی۔

پولیس کے مطابق یہ متاثرہ فیملی جمعرات کے روز موٹر سائیکل پر پکنک منانے جا رہی تھی کہ پیچھے سے آتے ہوئے ایک بے لگام ٹرک نے انہیں کچل دیا، جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت 30 سالہ ثناء کے نام سے ہوئی ہے۔ غم سے نڈھال شوہر نے بتایا کہ ہم بالکل نارمل اسپیڈ پر جا رہے تھے کہ تیز رفتار ٹرک نے پیچھے سے ٹکر ماری، جس سے ہم سب سڑک پر گرگئے اور میری بیوی ٹرک کے ٹائروں کے نیچے آ کر موقع پر ہی دم توڑ گئی، اب ان معصوم بچوں کو ماں کے بغیر پالنا زندگی کا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ کراچی میں گزشتہ چند ماہ سے بھاری گاڑیوں کے باعث مہلک حادثات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، صرف گزشتہ روز یکم جولائی کو بھی شہر میں دو الگ الگ ٹریفک حادثات میں ایک بچے سمیت دو افراد جان کی بازی ہار گئے، نارتھ کراچی میں سلیم سینٹر کے قریب تیز رفتار ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار کو کچل کر ہلاک کر دیا، ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا، کورنگی میں بلال چورنگی کے قریب ٹرک کی ٹکر سے 10 سالہ بچہ صدیق حسین جاں بحق ہوگیا۔

مزید یہ کہ کراچی میں ٹریفک سیفٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا اندازہ سرکاری اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے، آفیشل ڈیٹا کے مطابق رواں سال یکم جنوری سے 15 اپریل 2026ء کے درمیان محض ساڑھے تین ماہ میں شہر بھر میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 295 افراد جاں بحق جبکہ 3 ہزار 205 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 217 مرد، 39 خواتین، 30 لڑکے اور 9 لڑکیاں شامل ہیں۔

رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ اس عرصے کے دوران ہونے والے مہلک ترین حادثات میں سے 100 حادثات میں بھاری گاڑیاں ملوث تھیں، جن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں یعنی 46 کیسز بڑے ٹریلرز کی وجہ سے پیش آئے، شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر چلنے والے ان موت کے سوداگر ڈمپروں اور ٹرکوں کے خلاف فی الفور سخت ترین کریک ڈاؤن کیا جائے۔