سندھ طاس معاہدے کی معطلی اقوامِ متحدہ کے منشور ،عالمی بینک کی ضمانت کی صریح خلاف ورزی ہے، ماہرین
جمعہ 3 جولائی 2026 20:41
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ کسی زیریں ساحلی ریاست کی جانب بہنے والے دریا کا پانی روکنا لاکھوں افراد کے حق زندگی، صحت اور مناسب معیارِ زندگی کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا بھارت کا فیصلہ بلاجواز، غیر قانونی اور اقوامِ متحدہ کے منشور، عالمی بینک کی ضمانت اور بین الاقوامی معاہداتی ذمہ داریوں کے منافی ہے۔ معاہدے میں پہلے ہی دوطرفہ مذاکرات، غیر جانبدار ماہرین اور بین الاقوامی ثالثی سمیت تنازعات کے حل کے جامع طریقہ کار موجود ہیں، تاہم بھارت نے ان قانونی راستوں کو نظرانداز کرتے ہوئے پانی کے معاملے کو سیاسی اور سکیورٹی تنازعات سے جوڑ دیا، جس سے پورے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ماہر قانون ملک اشفاق ایڈووکیٹ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت پانی اور خوراک بنیادی انسانی ضروریات ہیں اور انہیں کبھی بھی سیاسی دبا ئویا ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک موثر رہتا ہے جب تک اسے قانونی طریقہ کار کے تحت ختم نہ کیا جائے، جبکہ سندھ طاس معاہدہ اسی مقصد کے تحت تشکیل دیا گیا تھا کہ وہ سیاسی کشیدگی اور جنگوں کے باوجود برقرار رہے۔ماہرین نے یاد دلایا کہ عالمی بینک کی ثالثی میں 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدہ دنیا کے کامیاب ترین سرحد پار آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں، کارگل تنازع اور طویل سفارتی کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک اس معاہدے پر عمل درآمد کرتے رہے۔پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عدنان سرور خان نے کہا کہ یہ معاہدہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاہدے کے تحت دستیاب تمام قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور تنازعات کا حل معاہدے میں موجود طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ یکطرفہ اقدامات کے ذریعے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بھارتی کوششیں نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کے دیگر بین الاقوامی آبی تنازعات کے لیے بھی خطرناک مثال قائم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی آبی قلت اور آبادی میں اضافے کے تناظر میں ایسے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ، پن بجلی کی پیداوار، پینے کے پانی کی فراہمی، ماہی گیری، جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ پانی کے بہائو میں کمی سے زرعی پیداوار، دیہی معیشت، دلدلی علاقوں، مینگرووز، آبی حیات اور نایاب نسلوں، خصوصا انڈس ڈولفن اور مہاشیر مچھلی، کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔انہوں نے عالمی برادری اور عالمی بینک پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحفظ اور اس کی مکمل بحالی کے لیے موثر کردار ادا کریں اور بھارت کو اپنے بین الاقوامی وعدوں اور قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادہ کریں تاکہ خطے میں امن، استحکام اور لاکھوں انسانوں کے آبی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔مزید قومی خبریں
-
10 روپے مالیت والے بینک نوٹ کی مبینہ بندش اور اسے تبدیل کرانے کی حوالے سے تمام اطلاعات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں،ترجمان سٹیٹ بینک
-
سلمان اکرم راجہ کی گرفتاری و رہائی
-
وزیراطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کی بٹگرام پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس کے نو منتخب صدور و جنرل سیکرٹریز کو مبارکباد
-
وفاقی وزیرمحمد حنیف عباسی کا مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف جٹ کے انتقال پر اظہار افسوس
-
چیک کی کلیئرنگ تاریخ پربلاوجہ پروپیگنڈا ،55 روپے فی کلومیٹر ہیلی کاپٹر چلانے والے دوسروں کی ادائیگیوں پر بات نہ کریں‘ عظمیٰ بخاری
-
27ستمبر کو تحریک انصاف اسلام آباد نہیں پہنچے گی، فیصل کریم کنڈی
-
ٴْجیکب آباد میں 12 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، وزیراعلیٰ سندھ کے نوٹس کے بعد پولیس کی پھرتی
-
ایس آئی ایف سی کی موثررابطہ کاری سے الائیڈ میٹریلز، ایف بی آرکے درمیان دوہرے ٹیکس کا معاملہ حل
-
پنجاب حکومت کا صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کنزیومر پروٹیکشن ایپ متعارف
-
وزیراعلیٰ سندھ کی گورنر سندھ سے ملاقات، سسر کے انتقال پر تعزیت
-
تمام ڈسکوز کو کنزیومر پرسیپشن سروے کے طریقہ کار، معیارات اور شیڈول کو حتمی شکل دے کر سروے فوری طور پر شروع کرنے کے احکامات جاری
-
حرمین شریفین کی حرمت و سلامتی ہماری ریڈ لائن ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،جمعہ کو یوم مذمت منایا جائے گا،حافظ طاہر محمود اشرفی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.