اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 جولائی 2026ء) اسلامی جمہوریہ ایران ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو رہا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ساتھ ہی ایران میں مذہبی قیادت پر مبنی حکمرانی کے ایک عہد کا اختتام ہو گیا ہے۔
ان کے بیٹے اور جانشین مجتبیٰ خامنہ ای تاحال عوامی نظروں سے اوجھل ہیں۔ سن 1979 کے انقلاب کے بعد اسلامی جمہوریہ کے تیسرے سپریم لیڈر بننے والے مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں بھی شریک نہ ہوئے۔
تاہم مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل سے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
(جاری ہے)
مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ بیان ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو امریکہ ایران کو ''مکمل طور پر تباہ و برباد‘‘ کر دے گا۔
ایران میں تبدیلی آئے گی کیا؟
ماہرین کے مطابق ایران میں قیادت کی یہ منتقلی محض اقتدار کے اعلیٰ منصب پر تبدیلی نہیں بلکہ ایک گہری ادارہ جاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے، جو علی خامنہ ای کے تقریباً چار دہائیوں پر محیط دور اقتدار میں بتدریج رونما ہوئی۔
سیاسی تجزیہ کار رضا طالبی کے مطابق علی خامنہ ای نے وقت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ کے طاقت کے ڈھانچے کو ازسر نو تشکیل دیا۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انقلاب کے بعد جو نظام قائم کیا تھا، وہ انقلابی جواز اور ان کی ذاتی اتھارٹی پر مبنی تھا مگر علی خامنہ ای نے اس نظام کی منظم انداز میں ازسر نو تشکیل شروع کی۔‘‘
طالبی کے مطابق گزشتہ 37 برسوں کے دوران سینیئر علما اور شیعہ دینی مدارس کا اہم سیاسی فیصلوں پر اثر و رسوخ مسلسل کم ہوتا چلا گیا جبکہ اس کی جگہ سکیورٹی اداروں، سپریم لیڈر کے دفتر اور اس سے وابستہ سیاسی و عسکری نیٹ ورکس نے زیادہ طاقت حاصل کر لی۔
سابق صدور پس منظر میں چلے گئے
اس تبدیلی نے ایران کے اداروں کے کردار کو بھی متاثر کیا ہے۔ طالبی کے مطابق صدارتی انتخابات بتدریج پہلے سے طے شدہ ایک سیاسی فریم ورک کے اندر ہونے والے مقابلوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
اگرچہ مختلف سیاسی دھڑوں سے تعلق رکھنے والے صدور کو بعض داخلی پالیسیوں پر عملدرآمد کا موقع ملا لیکن خارجہ پالیسی، جوہری پروگرام اور علاقائی امور جیسے اہم معاملات میں ان کا دائرہ اختیار محدود ہی رہا۔
علی خامنہ ای کے چھ روزہ سرکاری سوگ کے دوران بھی اسلامی جمہوریہ کے تین سابق صدور (حسن روحانی، محمود احمدی نژاد اور محمد خاتمی) حکومتی قیادت کے ساتھ نظر نہیں آئے۔
اس کے برعکس سرکاری تصاویر میں سکیورٹی اداروں، خصوصاً پاسداران انقلاب کے کمانڈروں اور موجودہ صدر مسعود پزشکیان کو نمایاں جگہ دی گئی۔
وسیع طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسعود پزشکیان کے مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔
انہوں نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔ریاستی میڈیا میں شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق ابتدائی طور پر مجتبیٰ خامنہ ای امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں تھے، تاہم بعد ازاں صدر پزشکیان نے، بطور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے چیئرمین، انہیں یقین دہانی کرائی کہ ''ایرانی عوام کے حقوق اور ایران کے علاقائی اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا،‘‘ جس کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای نے مذاکرات کی حمایت کی۔
پاسداران انقلاب کا بڑھتا ہوا اعتماد
صدر پزشکیان کے ساتھ ساتھ پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر اور موجودہ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
14 جون سن 2026 کو امریکہ اور ایران نے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) کے مسودے پر اتفاق کیا، جو مستقبل کے وسیع تر معاہدے کی بنیاد بننے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
تاہم آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ مذاکرات کے مستقبل پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع ہو گئیں۔
ایرانی خارجہ و سلامتی امور کے ماہر حمید رضا عزیزی کے مطابق ایران مفاہمتی یادداشت کی شق 5 کی ایسی تشریح کرتا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے ضروری شرائط طے کرنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہو گا۔
ایران
آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو ایک اہم اسٹریٹیجک دباؤ کے آلے کے طور پر دیکھتا ہے اور اسی لیے وہ ایران کی منظوری کے بغیر متبادل بحری راستوں کے قیام کی مخالفت کرتا ہے۔اندرونی طاقت کی کشمکش؟
فرانس
میں مقیم محقق مجتبیٰ نجفی کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ نے پاسداران انقلاب کے اعتماد اور سیاسی اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''امکان ہے کہ مستقبل میں پاسداران انقلاب کے اندر ہی طاقت کی کشمکش دیکھنے کو ملے اور ایران کی سیاسی سمت کا تعین اسی محور کے گرد ہو۔‘‘
مجتبیٰ نجفی کے مطابق ایران کے موجودہ طاقتور حلقے اعتدال پسند سیاسی قوتوں، بشمول سابق صدر حسن روحانی کے حامیوں، کو زیادہ گنجائش دینے کے حق میں نظر نہیں آتے۔
اب یہ دیکھنا ہے کہ آیا اسلامی جمہوریہ کی طاقتور اشرافیہ مجتبیٰ خامنہ ای کے گرد متحد ہو کر انہیں ملک کی نئی سمت متعین کرنے دے گی یا پھر مبینہ طور پر شدید زخمی مجتبیٰ خامنہ ای خود انہی طاقتور مراکز کے ہاتھوں ایک آلہ کار اور علامتی شخصیت بن کر رہ جائیں گے۔