وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا انڈس بلائنڈ ڈولفن کے تحفظ کیلئے اجتماعی اقدامات پر زور

منگل 14 جولائی 2026 19:29

وفاقی وزیر  ڈاکٹر مصدق ملک کا انڈس بلائنڈ ڈولفن کے تحفظ کیلئے اجتماعی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 جولائی2026ء) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے انڈس بلائنڈ ڈولفن کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ معدوم ہوتی انڈس ڈولفن کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مل کر بچایا،انڈس ڈولفن کئی تہذیبوں سے بھی پرانی ہے، جدید ڈولفن ریسکیو ایمبولنس تقریبا 200 کلومیٹر کے علاقے میں خدمات سر انجام دے گی، اب تک 220 پھنس جانے والی انڈس ڈالفنز کو کامیابی سے ریسکیو کیا جا چکا ہے، ماحولیاتی تباہی سے بچنے کے لئے اجتماعی اقدامات درکار ہیں، ماحولیاتی تباہی کے آبی و جنگلی حیات پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اسلام آباد میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے زیر اہتمام انڈس ڈولفن ایمبولینس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر نے کہا کہ انڈس بلائنڈ ڈولفن دریائے سندھ کی قدیم ترین حیات کا حصہ ہے جو وادی سندھ کی قدیم تہذیبوں سے بھی پہلے سے اس دریا میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈولفن کسی بیماری یا حادثے کے باعث اندھی نہیں بلکہ قدرتی ارتقائی عمل کے تحت ایکو لوکیشن (آواز کی لہروں) کے ذریعے راستہ تلاش کرتی اور شکار کرتی ہے جو اسے دریائے سندھ کے ماحول سے مکمل ہم آہنگ بناتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ انڈس بلائنڈ ڈولفن صرف ایک نایاب آبی جانور نہیں بلکہ دریائے سندھ، اس کے ماحولیاتی نظام اور وادی سندھ کی تہذیبی وراثت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈولفن دریا کو آنکھوں سے نہیں بلکہ اس کی آواز کو سن کر اپنا سفر جاری رکھتی ہے جبکہ آج اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان اس کی پکار سننے کے لیے تیار ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ چند دہائیاں قبل تقریباً 1970ء کے دوران انڈس بلائنڈ ڈولفن کی تعداد کم ہو کر تقریباً بارہ سو رہ گئی تھی اور ماہرین اس نسل کے معدوم ہونے کے خدشات کا اظہار کر رہے تھےتاہم وفاقی حکومت، حکومت سندھ، حکومت پنجاب، ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ اور دیگر شراکت دار اداروں کی مشترکہ کوششوں سے اس نایاب نسل کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک 220 پھنس جانے والی انڈس بلائنڈ ڈولفنوں کو کامیابی سے ریسکیو کیا جا چکا ہے جومتعلقہ اداروں، ماہرین اور مقامی آبادی کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے چین کے دریائے یانگ زی کی بائیجی ڈولفن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک نسل کو بچایا نہ جا سکا جبکہ انڈس بلائنڈ ڈولفن کو تحفظ فراہم کرنا اجتماعی عزم اور بروقت فیصلوں کا ثمر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، گرین ہائوس گیسوں کے اخراج، درجہ حرارت میں اضافے، گلیشیئرز کے پگھلنے اور تباہ کن سیلابوں کو محض تقدیر قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ انسانوں کے اپنے فیصلوں اور طرز عمل کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں آنے والے سیلابوں سے چار کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے، چھ ہزار سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ بیس ہزار سے زائد زخمی ہوئےجو ماحول کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ حکومت دریائے سندھ کو ایک ’’لیونگ انڈس‘‘ اور وادی سندھ کو ایک زندہ تہذیب کے طور پرمحفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید ڈولفن ریسکیو ایمبولینس تقریباً 200 کلومیٹر کے علاقے میں خدمات انجام دے گی اور انڈس بلائنڈ ڈولفن کے مسکن کا موثر احاطہ کرے گی جبکہ اس تحفظی مشن میں دریا کے کنارے آباد ڈیڑھ ہزار سے زائد ماہی گیروں اور مقامی خاندانوں کو بھی شریک کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ریسکیو ایمبولینس قدرتی ورثے کے تحفظ کے قومی عزم کی علامت ہے اور مستقبل میں بھی ایسے مزید عملی منصوبے متعارف کرائے جائیں گے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان اپنی قدرتی وراثت، دریائے سندھ، حیاتیاتی تنوع اور ماحول کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قدرت، ماحول اور اپنی تہذیبی وراثت کے تحفظ کے لیے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔