کشمیریوں کا 19 جولائی 1947 کی قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کا عزم، عالمی ادارے مسئلہ کشمیر کو قراردادالحاق کی روشنی میں حل کرائیں ، حریت رہنما

اتوار 19 جولائی 2026 12:52

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 جولائی2026ء) کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم الحاق پاکستان اس تجدید عہد کے ساتھ منا رہے ہیں کہ وہ بھارتی قبضے سے آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور پاکستان کے ساتھ جموں و کشمیر کے الحاق کی 19 جولائی 1947 کی قرارداد کو عملی جامہ پہنائیں گے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 19 جولائی 1947 کو کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں نے سرینگر کے علاقے آبی گزر میں سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس کے دوران پاکستان کے ساتھ الحاق کی تاریخی قرارداد متفقہ طور پرمنظور کی تھی۔

قرارداد میں پاکستان کے ساتھ جموں وکشمیر کی مذہبی، جغرافیائی، ثقافتی اور اقتصادی قربت اور اس کی مسلم آبادی کی بھاری اکثریت کی خواہشات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اس کے الحاق کا مطالبہ کیا گیا۔

(جاری ہے)

یہ قراردادتقسیم برصغیر کے منصوبے کے تحت 14 اور 15 اگست 1947 کو پاکستان اور بھارت کے دو آزاد ریاستوں کے طور پر ابھرنے سے تقریباً ایک ماہ قبل منظور کی گئی تھی۔

اس انتظام کے تحت شاہی ریاستیں دو نوںممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنے کے لیے آزاد تھیں۔19 جولائی 1947 کا فیصلہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی سیاسی خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کو پاکستان کے ساتھ جوڑ نا چاہتے ہیں۔ یہ قرارداد کشمیری عوام کے سیاسی، مذہبی، سماجی، ثقافتی اور اقتصادی حقوق کے تحفظ کے لیے منظور کی گئی تھی کیونکہ ان کے نمائندے اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ مسلمانوں کے لیے گہری دشمنی کی وجہ سے ہندو اکثریتی ملک میں ان کو امتیازی سلوک اور پسماندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حریت پسندتنظیموں نے اس موقع پر جاری اپنے پیغامات اوربیانات میں کہا کہ 19 جولائی کا دن جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک منفرد مقام اور خصوصی اہمیت کا حامل ہے جس دن کشمیری عوام نے اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ جوڑنے کا انتخاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے جاری بھارتی تسلط پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کے رشتوں کو کمزور کرنے میں ناکام رہا ہے۔

بیانات میں کہا گیا کہ19 جولائی 1947 کی قرارداد سے متاثر ہوکر کشمیری پاکستان کے ساتھ جموں و کشمیر کے الحاق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔حریت رہنمائوں نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کو بھارتی ریاستی جبر سے بچائیں اور تنازعہ کشمیر کو اس کے تاریخی تناظر میں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے میں موثر کردار ادا کریں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے درست طور پر کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ پاکستان تنازعہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے میں ہمیشہ سب سے آگے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 19 جولائی کی قرارداد کشمیریوں کی سیاسی جدوجہد اور امنگوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور کشمیری مشترکہ مذہبی، ثقافتی، تاریخی اور جغرافیائی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے اوراپنے مقصد سے وابستگی کا اعادہ کرنے کے لیے ریلیاں، سیمینارز اور سوشل میڈیا مہمات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔