ایچ ای سی کی جانب سے تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ اور عالمی معیار کی تحقیق کی حوصلہ

جمعرات 23 جولائی 2026 23:21

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 جولائی2026ء) اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستان میں تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ اور عالمی معیار کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کے لیے جمعرات کو جامعہ این ای ڈی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا ،جس میں سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے سائنسدانوں، محققین اور دنیا کے سرفہرست دو فیصد سائنسدانوں کی فہرست میں شامل سکالرز کے علاوہ قومی تحقیقی پروگرام برائے جامعات (این آر پی یو) 2025-26 کے گرانٹ یافتگان کو اعزازات سے نوازا گیا۔

تقریب میں گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی، صوبائی وزیر جامعات و بورڈز سردار محمد اسماعیل راہو، چیئرمین اعلیٰ تعلیمی کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر، وزیراعظم یوتھ پروگرام (سندھ) کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فہد شفیق، ممتاز سائنسدان اور سابق وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، ماہرین تعلیم، سائنسدانوں، محققین اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعزاز حاصل کرنے والے سائنسدانوں اور محققین کو مبارکباد دی اور کہا کہ ان کی کامیابیاں عالمی سطح پر پاکستان کے لیے باعث فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق معاشرتی مسائل کے حل، معیار زندگی میں بہتری اور پائیدار قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے تحقیقی ماحول کے فروغ کے لیے ایچ ای سی کی کوششوں کو بھی سراہا۔

چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ ممتاز محققین کی حوصلہ افزائی سے ملک میں تحقیق اور جدت کا فروغ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تعلیم، تحقیق اور معیشت کے مستقبل کو نئی سمت دے رہی ہے، اس لیے جامعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تحقیق، اختراع اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے سندھ کی جامعات کے وائس چانسلرز کی تحقیقی شعبے میں خدمات کو بھی سراہا۔

صوبائی وزیر سردار محمد اسماعیل راہو نے دنیا کے سرفہرست دو فیصد سائنسدانوں کی فہرست میں شامل محققین اور این آر پی یو گرانٹ یافتگان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور اختراع کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔وزیراعظم یوتھ پروگرام (سندھ) کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فہد شفیق نے حکومت کے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، کاروباری مواقع، اختراع اور ڈیجیٹل شعبے میں بااختیار بنانے سے متعلق اقدامات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا علم پر مبنی معیشت کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔

اس سے قبل ایچ ای سی کے رکن برائے تحقیق و اختراع ڈاکٹر سید حبیب علی بخاری نے استقبالیہ خطاب میں تحقیق و اختراع کے فروغ کے لیے کمیشن کے وژن اور اقدامات سے آگاہ کیا جبکہ ایچ ای سی کے مشیر برائے تحقیق و اختراع پروفیسر ڈاکٹر محمد علی ناصر نے تحقیقی پروگراموں، نمایاں کامیابیوں اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ممتاز سائنسدان اور ایچ ای سی کے بانی چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نے کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور اعلیٰ تعلیم میں مسلسل سرمایہ کاری ہی پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی اور عالمی مسابقت کو یقینی بنا سکتی ہے۔

تقریب کے اختتام پر جامعہ این ای ڈی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعات، حکومتی ادارے اور ایچ ای سی باہمی تعاون سے پاکستان میں تحقیق، اختراع اور تعلیمی معیار کے مزید فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔